رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل پر حملوں میں ملوث فلسطینیوں کے گھر مسمار


اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو ’دہشتگردوں‘ کے گھروں کی مسماری کا کام تیز کرنے اور مشتبہ دہشتگردوں کو مقدمے کے بغیر قید کرنے کا عمل تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

اسرائیلی فورسز نے منگل کو ان دو فلسطینیوں کے گھر مسمار کر دیے ہیں جنہوں نے گزشتہ سال یروشلم میں حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے بعد پولیس نے انھیں ہلاک کر دیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے انہیں ہلاک کر دیا تھا۔

ان دو گھروں میں سے ایک اس فلسطینی کا تھا جس نے ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے میں پانچ افراد اور ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ دوسرے فلسطینی نے ایک شخص کو بل ڈوزر سے ہلاک کیا تھا۔ اسرائیلی فورسز نے ایک اور فلسطینی کے گھر کے کچھ حصوں کو سر بمہر کر دیا جس نے ایک یہودی کارکن کو گولی ماری تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو ’دہشتگردوں‘ کے گھروں کی مسماری کا کام تیز کرنے اور مشتبہ دہشتگردوں کو مقدمے کے بغیر قید کرنے کا عمل تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے پیر کو کہا تھا کہ فلسطینیوں کی طرف سے کیے جانے والے تشدد کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں میں اسرائیلی فورسز پر کوئی حدود عائد نہیں۔

نیتن یاہو نے پیر کو سکیورٹی کی صورتحال پر کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے کچھ دیر قبل کہا کہ ’’ہم فورسز کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ ان لوگوں کے خلاف سخت اقدام کریں جو پتھر اور آتشی بم پھینکتے ہیں۔ ہم کسی کو استثنیٰ نہیں دیں گے، کسی فسادی، کسی دہشت گرد کو کہیں بھی نہیں۔‘‘

دریں اثنا، فلسطینی صدر محمود عباس نے پیر کو اپنی سکیورٹی ٹیم سے ملاقات کی اور تشدد میں اضافے کو روکنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بنیں گے۔

تشدد کے تازہ ترین واقعے میں پیر کو اسرائیلی فورسز نے دو فلسطینی لڑکوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جو مغربی کنارے پر پتھر پھینک رہے تھے۔ اسرائیلی پولیس نے پانچ فلسطینیوں کو بھی گرفتار کیا جن پر گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی جوڑے کو کار میں گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا جس کی وجہ مشرقی یروشلم میں واقع ایک مقدس مقام ہے جسے مسلمان حرم الشريف‎ کہتے ہیں جبکہ یہاں قدیم زمانے میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ ہوتی تھی۔

طویل عرصہ سے اس مقام کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے مگر مسلمانوں کو وہاں جانے اور عبادت کرنے کی اجازت ہے۔ یہودی بھی اس جگہ جا سکتے ہیں مگر انہیں عبادت کی اجازت نہیں۔

فلسطینیوں نے اسرائیلی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اس مقام پر جانے سے منع کیا جا رہا ہے، جس کے بعد فلسطینیوں نے پتھر پھینکنے شروع کیے اور فلسطینی علاقوں میں آنے والے یہودیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

اس کے جواب میں اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ 50 سال اور اس سے کم عمر کے مردوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اتوار کو اسرائیلی پولیس نے ایک فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس نے شہر کے قدیمی علاقے میں ایک نوعمر اسرائیلی کو چاقو سے وار کر کے زخمی کر دیا تھا۔

اس سے ایک دن قبل ایک فلسطینی نے مسجد اقصیٰ کے قریب ایک اسرائیلی خاندان پر چاقو سے حملہ کیا تھا جس میں ایک اسرائیلی ہلاک جبکہ اس کی اہلیہ اور بچہ زخمی ہو گئے تھے۔

کچھ اسرائیلیوں اور اعتدال پسند فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ تشدد میں اضافہ فلسطینی بغاوت کی پہلی علامت ہے۔

نیتن یاہو اور عباس کی طرف سے سخت الفاظ اور مغربی کنارے پر اسرائیل کی طرف سے جاری یہودی آباد کاری کے باعث مذاکرات کے ذریعے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کا امکان مزید تاریک نظر آ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG