رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی اور اسرائیلی لیڈروں کا دورہ ِچین


ماہرین کا کہنا ہے کہ چین، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بہتری کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے

رواں ہفتے چین میں فلسطینی اور اسرائیلی لیڈروں نے بیجنگ میں چینی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ چین اسرائیل فلسطین تنازعے میں ثالث کا کردار ادا کرنے میں دلچسپی لیتا دکھائی دیتا ہے۔

اسرائیلی وزیر ِ اعظم بنجمن نیتن یاہو بدھ کے روز چین پہنچے جہاں ان کا خیرمقدم کیا گیا۔ 2007ء کے بعد وہ پہلے اسرائیلی لیڈر ہیں جنہوں نے چین کا دورہ کیا ہے۔ جبکہ، مسٹر نیتن یاہو کے چین کے دورے سے پہلے فلسطینی صدر محمود عباس بھی رواں ہفتے میں ہی چین گئے تھے جہاں چینی صدر ژی جنپنگ نے انہیں چار نکاتی امن پلان پیش کیا تھا۔

چین ماضی میں بھی فلسطینی موٴقف کی تائید کرتا رہا ہے اور اُس نے اسرائیل سے 1992ء میں باضابطہ طور پر تعلقات استوار کیے تھے۔

رنمن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر ژیا اوہ چینگ کہتے ہیں کہ بیجنگ مشرق ِ وسطیٰ کے تنازعے میں ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ان کے الفاظ، ’’یقیناً چین ایک بڑا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن، دوسری طرف چین مشرق ِوسطیٰ میں امریکی کردار کو ختم کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوئی خواہش یا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘

چین اور اسرائیل کے درمیان بہت سے سیاسی معاملات پر ابھی بھی اختلاف ِرائے پایا جاتا ہے جیسا کہ شام کا تنازعہ۔ چین شام میں کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے لیکن دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے حالیہ چند دنوں میں شام پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

گو کہ چین میں صدر عباس اور مسٹر نیتن یاہو کے درمیان ملاقات نہیں ہوئی، لیکن اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ چین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے ضمن میں اپنا کردار بڑھانے اور ادا کرنے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے۔
XS
SM
MD
LG