رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل: رکن پارلیمان میں کرونا کی تشخیص، کئی اسکول دوبارہ بند


حکام نے پارلیمنٹ کے غیر ضروری اسٹاف کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جب کہ پارلیمنٹ میں ہونے والے تمام قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ (فائل فوٹو)

اسرائیل کے ایک رکنِ اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس معطل کر دیا گیا ہے جب کہ ملک میں وائرس کی نئی لہر کے بعد دو ہفتے قبل کھولے گئے کئی اسکول بھی بند کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق رکنِ پارلیمنٹ سامی ابو شحادہ میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد جمعرات کو پارلیمنٹ کا ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے عرب رکن سامی ابو شحادہ اسرائیل کی عرب جماعتوں کے اتحاد القائمہ المشترکہ (جوائنٹ لسٹ) کے رکن ہیں۔

سامی ابو شحادہ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ اُن تمام افراد سے گزارش کرتے ہیں جو حالیہ چند روز کے دوران ان کے قریب رہے کہ وہ قرنطینہ میں چلے جائیں اور اپنا کرونا وائرس کا ٹیسٹ بھی کرائیں۔

حکام نے رکنِ پارلیمان میں وائرس کی تصدیق کے بعد پارلیمنٹ کے غیر ضروری اسٹاف کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جب کہ پارلیمنٹ میں ہونے والے تمام قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی منسوخ کر دیے ہیں۔

اسرائیلی شہریوں کے موبائل فون زیر نگرانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:28 0:00

اسرائیل میں کرونا وائرس کے کیسز میں کمی آنے کے بعد حالیہ چند ہفتوں کے دوران پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

حکومت نے شہریوں سے کہا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے سے وبا کا پھیلاؤ ایک بار پھر زور پکڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل میں گزشتہ ماہ کھولے گئے اسکولوں کے کئی طلبہ کے کرونا سے متاثر ہونے کے بعد ملک بھر میں تشویش پھیل گئی ہے۔

ملک بھر میں 42 تعلیمی ادارے بند

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وبا کی حالیہ لہر کے باعث ملک بھر میں 42 کے قریب تعلیمی ادارے بند کیے جا چکے ہیں۔ تاہم وزارتِ تعلیم نے اسکولوں کی بندش سے متعلق کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔

وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں وائرس کی موجودگی پر اسے بند کر دیا جائے۔

اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو ایسے طریقۂ کار پر مستقل عمل کرنا ہو گا جس سے طلبہ کو وبا سے محفوظ رکھا جا سکے اور ان کے درمیان سماجی دوری برقرار رہے۔

اسرائیل کی آبادی 90 لاکھ سے زائد ہے جب کہ یہاں اب تک 17 ہزار 500 کے قریب کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ حکام نے وائرس سے اب تک 291 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے پانچ لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کے اخبار 'ہارٹیز' کے مطابق وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مزید 2000 سے زائد بچوں اور اسکولوں کے عملے کے ارکان کو قرنطینہ میں جانے کا کہا گیا ہے جس کے بعد اسکولوں سے وابستہ 6831 افراد قرنطینہ میں جا چکے ہیں۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں اب تک 244 طلبہ اور اسکول اسٹاف میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG