رسائی کے لنکس

logo-print

امدادی بحری قافلے پر اسرائیلی حملہ: ترکی نے اپنا سفیر واپس بلا لیا


اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کا سامان لے جانے والے بحری جہازوں پر مہلک کارروائی کے بعد ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔

پیر کے روز ایک ترک جہاز کی قیادت میں سفر کرنے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی ساحل سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پربین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کمانڈو ز کے دھاوے کے نتیجے میں کم ازکم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

ترک وزارت خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کو ناقابل قبول قراد دیا اور خبردار کیا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان مارک ریگو نے کہا ہے کہ امدادی کارکنوں کے پاس ہتھیار موجود تھے اور وہ کمانڈوز پر حملے کے لیے تیار تھے۔ لیکن بحری قافلے کا انتظام کرنے والی تنظیم فری غزہ موومنٹ کے ایک نمائندے اس حملے کو عام شہریوں پر ایک حملہ قراردیتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں کے تشدد کرنے کے عزائم نہیں تھے۔

ترکی نے اس واقعہ پر احتجاجاً اسرائیل کے ساتھ اپنی تین طے شدہ فوجی مشقیں منسوخ کردی ہیں۔

اسی اثنا میں ترک دارالحکومت انقرہ میں تقریباً 10 ہزار افراد نے اسرائیلی قونصلیٹ سے مرکزی چوک تک اس حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

امدادی قافلے کی کشتیوں میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے لیے 10 ہزار ٹن انسانی ہمدردی کا سامان لے جایا جارہا تھا اور کشتیوں پرتقریباً 600 امدادی کارکن سوار تھے۔



XS
SM
MD
LG