رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی اور یہودی آباد کاروں میں جھڑپیں، سات زخمی


پیر کے روز شمالی مغربی کنارے کے یہودی آباد کاروں اورفلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں کم ازکم سات افراد زخمی ہوگئے۔تشدد کے یہ واقعات یہودی آباد کاروں کے اپنے مکانوں کے انہدام پر برہمی کے بعد پیش آئے۔

اسرائیلی پولیس اور فلسطینی عینی شاہدین کا کہناہے کہ قصبے بورین میں راکٹوں پر ایک دوسرے پر حملوں کے نتیجے میں چار یہودی آباد کار اور کم ازکم تین فلسطینی زخمی ہوگئے۔

تشدد کے یہ واقعات اسرائیلی حکام کی جانب سے علاقے میں آبادکاروں کی بنائی ہوئی غیر قانونی عمارتیں گرانے کے بعد پیش آئے۔ مغربی کنارے کے انتہاپسند آباد کار اکثر اپنی غیر قانونی تعمیرات کے گرائے جانے کا جواب فلسطینیوں اور ان کی املاک پر حملے کی شکل میں دیتے ہیں ۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ کئی اسرائیلی آباد کار وں نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے تشدد پر قابو پانے کی کارروائی سے قبل فلسطینیوں کا ایک نئے تعمیر شدہ مکان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست مذاکرات کے لیے ایک شرط کے طورپر یہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل مغربی کنارے میں تعمیرات پر پابندی لگانے کا وعدہ کرے۔

پچھلے ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر دونوں فریق مفاہمت پر تیار ہوجائیں تو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ممکن ہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں امریکی نمائندے جارج مچل کے توسط سے بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔



XS
SM
MD
LG