رسائی کے لنکس

logo-print

الخلیل میں مسجد ابراہیم پر ہزاروں اسرائیلیوں کا اجتماع


انہیں قومی ورثے کے مقامات قرار دینے کے اعلان نے فلسطینیوں کو برہم کردیا تھا

اسرائیل کی جانب سے مسجد ابراہیم کو قومی ورثے کا مقام قرار دیے جانے پر خوشیاں منانے کے لیے جمعرات کے روز ہزاروں اسرائیلی مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں جمع ہوئے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے فروری میں الخلیل میں مسجد ابراہیم اور بیت اللہم کے قریب ایک اور مقام کو قومی ورثے کے مقامات قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے تحت ان قدیم تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے اب سر کاری رقم فراہم کی جاسکتی ہے۔
اس اقدام نے فلسطینیوں کو برہم کردیا تھا اور فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئى تھیں۔ فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کو اپنے مستقبل کے ملک کا حصہ قرار دیتے ہیں اور اسرائیل کی آباد کاری کی سرگرمیوں اور علاقے پر فوج کے قبضے کو رد کرتے ہیں۔
جمعرات کے روز کم سے کم ایک شخص اُس وقت زخمی ہوگیا جب فلسطینیوں نے اُس بس پر پتھر پھینکے جو اسرائیلیوں کو جشن منانے کے لیے مسجد ابراہیم لیکر جارہی تھی۔
عہدے داروں نے کہا ہے کہ ڈرائیور بس کو غلطی سے ایک ایسے علاقے میں لے گیا تھا جو اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
باور کیا جاتا ہے کہ مسجد ابراہیم کے اندر ہی حضرت ابراہیم کی قبر ہے، جو مسلمانوں اور یہودیوں، دونوں کے لیے مقدّس ہستی ہیں۔

XS
SM
MD
LG