رسائی کے لنکس

'سرِ عام پھانسی دینے سے پاکستان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں'


چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق علی نواز چوہان (فائل فوٹو)

علی نواز چوہان کے بقول پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ایسے مختلف میثاقوں پر دستخط کر رکھے ہیں جو کہ اس طرح کی سزا یا اقدام سے روکتے ہیں۔

پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ سرِ عام پھانسی دینے کی مجوزہ قانونی ترمیم کسی بھی صورت سود مند نہیں ہوگی اور اس سے جہاں جرائم کے خلاف مدافعت پیدا کرنے میں کامیابی نہیں ہوگی وہیں عالمی سطح پر پاکستان کے لیے مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

رواں ماہ ضلع قصور میں ایک کم سن بچی زینب کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعے کے بعد مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو سرِ عام پھانسی دینے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

پارلیمان کے ایوان بالا 'سینیٹ' کی کمیٹی برائے امورِ داخلہ نے بھی اس بابت موجودہ قانون میں ترمیم تجویز کرتے ہوئے 14 سال سے کم عمر بچوں کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے جرائم میں ملوث مجرموں کو سرِ عام پھانسی دینے کا کی تجویز دی ہے۔

گو کہ کمیٹی سے سفارشات منظور ہونے کے بعد جب سینیٹ میں اس معاملے پر بحث ہوئی تو متعدد قانون سازوں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی۔

منگل کو کمیشن کے چیئرمین علی نواز چوہان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ 1994ء میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے آئین کی شق 14 کو زیرِ بحث لاتے ہوئے یہ کہہ دیا تھا کہ سرِ عام پھانسی انسانی وقار کے خلاف ہے اور ملک میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

آئین کی یہ شق پاکستان کے شہریوں کے وقار کے احترام کو یقینی بناتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ایسے مختلف میثاقوں پر دستخط کر رکھے ہیں جو کہ اس طرح کی سزا یا اقدام سے روکتے ہیں۔

"ہمارے پاس (ملک میں) 27 جرائم ہیں جن میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اس پر پہلے ہی حکومت غور کر رہی ہے کہ ان کو کم کیا جائے کیونکہ GSP+ اور یورپی یونین وغیرہ یہ سب لوگ اس کے خلاف بات کر رہے ہیں۔۔۔ سزائے موت ایک اور چیز ہے لیکن سرِ عام پھانسی دینا، اس طرح سے بے توقیر کرنا، لٹکانا یہ مزاحم نہیں ہو سکتا ہے جرائم کا۔"

علی نواز چوہان سابق جج بھی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 27 جرائم میں موت کی سزا ان جرائم میں کمی کا باعث نہیں بنی کیونکہ جرائم کا تعلق معاشرے کے سماجی و معاشی معاملات سے ہوتا ہے جنہیں "قرونِ وسطیٰ" کی سزائیں دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اس قانونی ترمیم کی کوشش اور مطالبے کو اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ لوگ ردِعمل کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان نے سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی بھی اس وقت اٹھائی تھی جب دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر بدترین دہشت گرد حملے میں 100 سے زائد بچوں سمیت 150 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

16 دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کیا تھا
16 دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کیا تھا

پابندی ہٹائے جانے کے بعد سے اب تک 400 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے لیکن ان میں اکثریت ایسے مجرموں کی ہے جو دہشت گردی کے علاوہ دیگر ایسے جرائم کے مرتکب تھے جن کی پاکستانی قانون کے مطابق سزا موت ہے۔

پھانسیوں کا سلسلہ بحال کرنے پر بھی پاکستان کو یورپی یونین کے علاوہ انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ علی نواز چوہان کے خیال میں یہ مجوزہ ترمیم منظور نہیں ہوگی اور ان کے خیال میں نظامِ انصاف میں اصلاحات سے اس بابت خاطرخواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

"کرمنل جسٹس سسٹم جس میں پولیس بھی شامل ہے، اس کو درست کرنا ہوگا۔ ہماری لیبارٹریز یہ ڈی این اے وغیر ان کو ٹھیک کرنا ہوگا۔۔۔پھر ہمارے مذہبی رہنما اور چیزوں پر تو بات اور کلام کرتے ہیں، اس (بچوں سے جنسی زیادتی) پر انھوں نے ذکر نہیں کیا ایسے جرائم کا۔ تو یہ سب چیزیں جب ہوں گی تو ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہوگی۔"

حکومت کی طرف سے یہ قانونی ترمیم اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیج دی گئی ہے جو کہ مذہبی حوالوں سے اس کا جائزہ لے کر اپنے رائے دے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG