رسائی کے لنکس

logo-print

افغان تنازع: استنبول کانفرنس 24 اپریل سے ہو گی، طالبان نے شرکت کے لیے شرط رکھ دی


فائل فوٹو

ترکی کے شہر استنبول میں افغانستان کے معاملے پر 10 روزہ کانفرنس کا آغاز 24 اپریل سے ہو گا لیکن طالبان نے کانفرنس میں اپنی شرکت غیر ملکی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا سے مشروط کر دی ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان بدھ کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق جنرل باجوہ اور اینٹنی بلنکن نے باہمی دلچسپی کے اُمور، علاقائی صورتِ حال اور افغان امن عمل پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

ترجمان کے مطابق پاکستانی آرمی چیف نے دورانِ گفتگو افغان امن کوششوں میں اپنے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا جب کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے بھی اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

استنبول کانفرنس کے مشترکہ منتظمین ترکی، قطر اور اقوامِ متحدہ نے منگل کو جاری ایک مشترکہ بیان میں بتایا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان استنبول میں ایک غیر معمولی کانفرنس کا انعقاد ہو گا جو 24 اپریل سے چار مئی تک جاری رہے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کے منتظمین ایک آزاد، خود مختار اور متحد افغانستان کی مدد کے لیے پُر عزم ہیں۔

استبول کانفرنس کا مقصد افغان امن عمل کی رفتار کو تیز کرنا اور دوحہ میں جاری بین الافغان مذاکرات کو آگے لے جانا بتایا جاتا ہے تاکہ ایک پائیدار سیاسی حل تک پہنچا جا سکے۔

مشترکہ بیان کے مطابق کانفرنس اور اس کے ایجنڈے سے متعلق افغان فریقین سے تفصیلی مشاورت کا عمل جاری ہے۔

کانفرنس میں توجہ اس بات پر ہو گی کہ مذاکرات میں شامل فریق ایسے بنیادی اصولوں پر متفق ہو جائیں جو افغانستان کے متفقہ مستقبل کے تصور کے عکاس ہوں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکہ کی جانب سے عبوری حکومت کی تجویز سامنے آئی تھی جس کی افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے مخالفت کی گئی تھی۔ بعدازاں ترکی، قطر اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے مختلف تجاویز سامنے آئیں اور پھر افغان حکومت نے بھی اپنی تجاویز پر مشتمل منصوبہ پیش کیا تھا۔

افغان تنازع کے حل کے سلسلے میں استنبول کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کانفرنس تمام فریقین کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ افغان عوام کو امن، استحکام اور خوش حالی کے راستے پر ڈالنے کی اپنی مدد کا اعادہ کریں۔

استنبول کانفرنس کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر نعیم نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جب تک افغانستان میں تمام غیر ملکی افواج کا انخلا نہیں ہوجاتا وہ اس وقت تک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے جس میں افغانستان سے متعلق فیصلے ہونا ہیں۔

استنبول کانفرنس سے قبل افغانستان میں دیرپا امن کے حوالے سے کافی کوششیں ہو چکی ہیں۔ لیکن نہ تو افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور نہ ہی حکومت اور طالبان کے درمیان اعتماد کی فضا بہتر ہوئی ہے۔

افغان تنازع کے پرامن حل کے لیے امریکہ نے بھی اپنی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔ چند روز قبل امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے استنبول کانفرنس میں افغان قیادت کی شرکت کے سلسلے میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔

تاہم امن عمل کے سلسلے میں افغان صدر بھی ایک روڈ میپ کا اعلان کر چکے ہیں جس میں طالبان سے معاہدے اور انتخابات سے قبل جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے۔

صدر غنی قیامِ امن کا واحد اور پائیدار حل ملک میں انتخابات کے انعقاد کو ہی قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے 11 ستمبر 2021 تک افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان صدر جو بائیڈن کی جانب سے بدھ کو کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کے ایک ذمہ دار اہلکار نے منگل کو اعلان کیا کہ صدر جو بائیڈن سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں 20 برس سے جاری جنگ کا خاتمہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور افغانستان سے افواج کی واپسی کا مقصد اس وقت عالمی سطح پر درپیش مسائل پر نظر رکھنے کے لیے ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا سامنا دو دہائی قبل نہیں تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کے تحت تمام غیر ملکی افواج کو یکم مئی تک افغانستان سے انخلا کرنا ہے۔ تاہم صدر بائیڈن کے منصوبے کے تحت افغانستان میں موجود امریکہ کے تین ہزار فوجی یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی وہاں موجود رہیں گے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا جس کے تحت طالبان نے غیر ملکی افواج کو نشانہ نہ بنانے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے روابط نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر ستمبر تک افغانستان کے مسئلے کا کوئی پائیدار حل نہ نکلا تو پورا ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

'انخلا سے قبل امریکہ عبوری حکومت کا خواہش مند'

سینئر تجزیہ نگار، مصنف اور افغان امور کے ماہر احمد رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کے پاس آپشنز محدود ہیں کیوں کہ کسی بھی فیصلے میں مشکلات اور رکاوٹیں سامنے آ سکتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ 11 ستمبر کو فوجی انخلا سے قبل افغانستان میں اتفاقِ رائے سے ایک حکومت بن جائے۔

افغان اُمور کے ماہر کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کی جانب سے ابھی تک کسی بھی طرز حکومت کا واضح اشارہ سامنے نہیں آیا۔

احمد رشید کے بقول امریکہ کی جانب سے فوجی انخلا کی تاریخ میں توسیع کے معاملے پر طالبان کو بھی لچک دکھانا ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان اپنے مزید سات ہزار قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی افغان حکومت مخالف ہے۔ کیوں کہ وہ سمجھتی ہے کہ پہلے رہائی پانے والے پانچ ہزار طالبان جنگجوؤں میں سے بیشتر میدانِ جنگ میں واپس آ گئے تھے۔

احمد رشید کہتے ہیں کہ افغان حکومت یہ سمجھتی ہے کہ طالبان کے سارے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کا افغان عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور تشدد اب بھی برقرار ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ستمبر کے بعد بھی وہ افغانستان کی صورتِ حال میں کسی بڑی تبدیلی کے امکانات نہیں دیکھ رہے۔

احمد رشید کا کہنا تھا کہ اگر ستمبر تک افغانستان میں کوئی عبوری حکومت قائم نہ ہوئی تو امریکی فوج کے انخلا کے بعد دوبارہ خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔

اُن کے بقول طالبان دوبارہ پورے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جس کے باعث اُن کی افغان فورسز اور دیگر جنگجو دھڑوں سے لڑائی میں شدت آ سکتی ہے۔

تشدد میں اضافے کے خدشات

'ژواک نیوز' ایجنسی کے سینئر ایڈیٹر مدثر شاہ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد افغان عوام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد یقینی طور پر ملک میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گا۔

اُنہوں نے بتایا کہ حالیہ چار ماہ کے اعدادو شمار کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔

مدثر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بارے میں بعض امریکی انٹیلی جنس اہل کاروں کی بھی یہ رائے ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG