رسائی کے لنکس

logo-print

اٹلی: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 267 ہو گئی


مرنے والوں میں 12 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ان میں تین برطانوی، رومانیہ کے چھ، اسپین، کینیڈا اور ایل سلواڈور کا ایک، ایک شہری شامل ہیں۔

اٹلی میں بدھ کو آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 267 تک پہنچ گئی ہے اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش تو جاری ہے لیکن ان کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی دی جا رہی ہیں۔

جمعہ کو وسطی اٹلی میں اماٹریس کے علاقے میں آنے والے دو شدید بعد از زلزلہ جھٹکوں کے باعث امدادی کارروائیاں کچھ دیر کے لیے روکنا پڑیں۔

ان میں سے ایک 4.3 اور ایک 4.7 شدت کا جھٹکا تھا اور پہلے سے مخدوش عمارتوں کو ان کے باعث مزید نقصان پہنچا جبکہ گردوغبار کے اٹھنے والے بادلوں سے لوگوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا۔

بدھ کی صبح زلزلے کے بعد سے اب تک پانچ سو سے زائد آفٹرشاکس آچکے ہیں۔

حکام نے زلزلے سے 267 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جو کہ زیادہ تر اماٹریس، ارکیوٹا اور اکیومولی کے علاقوں میں ہوئیں۔ یہ علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

زلزلے سے زخمی ہونے والے 400 سے زائد افراد اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

مرنے والوں میں 12 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ان میں تین برطانوی، رومانیہ کے چھ، اسپین، کینیڈا اور ایل سلواڈور کا ایک، ایک شہری شامل ہیں۔

تلاش اور امداد کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور حکام نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ اب تک 200 سے زائد افراد کو مختلف عمارتوں کے ملبے تلے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔

امدادی کاموں میں 5400 کارکنان حصہ لے رہے ہیں جن میں پولیس، فوج اور رضا کار شامل ہیں۔

جرمنی، فرانس اور اسرائیل سمیت دیگر اتحادی ممالک نے امدادی کارروائیوں کے لیے معاونت کی پیشکش کر رکھی ہے لیکن اٹلی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے فی الوقت تعاون کی ضرورت نہیں۔

زلزلے سے کئی تاریخی عمارتوں اور چرچز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

XS
SM
MD
LG