رسائی کے لنکس

logo-print

اطالوی بندرگاہ: 900 سے زائد پناہ گزینوں کو بچا لیا گیا


مولڈووا کا پرچم بردار یہ سمندری جہاز ’بلو اسکائی ایم‘ اِن تارکینِ وطن کو لے کر، گالیپولی کی جنوبی بندرگاہ پہنچا، جن میں زیادہ تر کا تعلق شام سے ہے

چھ اطالوی ساحلی محافظوں نے بحر ’ایڈریاٹک‘ میں بے سہارا مال بردار جہاز کی امداد کرتے ہوئے، اُس میں سوار 900 سے زائد پناہ گزینوں کو بچا لیا اور اُنھیں بدھ کی علی الصبح ایک اطالوی بندرگاہ پہنچایا۔ اس ہفتے کھلے سمندر میں رونما ہونے والے والا یہ دوسرا واقع تھا۔

ریڈ کراس کی ایک خاتون ترجمان نے خبر رساں ادارے، رائٹرز کو بتایا ہے کہ مولڈووا کا پرچم بردار یہ سمندری جہاز ’بلو اسکائی ایم‘ اِن تارکینِ وطن کو لے کر، گالیپولی کی جنوبی بندرگاہ پہنچا، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شام سے ہے۔

اطالوی ریڈ کراس کے سرگرم کارکنوں اور ہنگامی امداد کے کام سے وابستہ دیگر اہل کاروں نے بندرگاہ آمد پر جہاز کا خیرمقدم کیا۔

رپورٹ کے مطابق، ریڈ کراس نے بتایا ہے کہ مال بردار جہاز میں سوار تارکینِ وطن میں سے چار مردہ حالت میں پائے گئے۔

ادھر، فرانسسی خبر رساں ادارے، اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اِن پناہ گزینوں میں ایک حاملہ خاتون بھی تھیں، جو اِس مشکل صورت حال میں بچے کو جنم دیا۔ اس واقع کے بارے میں چھان بین شروع ہو چکی ہے، آیا اِس سمندری جہاز کو لہروں کے آسرے بے سہارا کیونکر چھوڑ دیا گیا۔

یہ انکشاف ہونے پر کہ مسافر بردار جہاز کا عملہ جہاز کے انجن کو ناکارہ حالت میں، بےرحم لہروں کے آسرے چھوڑ کرچلا گیا ہے، جو اطالوی ساحل سے دور کھلے سمندر میں لنگر انداز تھا، اطالوی ساحلی محافظوں نے منگل کی رات گئے جہاز کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لیا، اور بدھ کی علی الصبح اُسے گالیپولی بندرگاہ لے آئے۔

اِس ڈرامے کا انکشاف اُس وقت ہوا جب اٹلی اور یونان مسافر بردار سمندری جہاز، ’نورمن ایٹلانٹک کار‘ کےحادثے سے ابھی نمٹ ہی رہے تھے، جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے اور درجنوں لاپتا ہیں۔

’بلو اسکائی ایم‘ کو پہلی بار منگل کو یونان کے جزیرے، کورفو میں دیکھا گیا، جس سے قبل، پریشانی میں گھرے ایک مسافر کی طرف سے مدد کی اپیل موصول ہوئی۔

XS
SM
MD
LG