رسائی کے لنکس

logo-print

اٹلی: تارکین وطن کو سمندر میں پھینکنے والے 15 ملزمان گرفتار


پولیس کا کہنا تھا کہ "اس تنازع کی وجہ ان کے عقائد بتائی جاتی ہے۔ ڈوب جانے والے 12 افراد نائیجیریا اور گھانا سے تعلق رکھتے تھے۔"

اٹلی کی پولیس نے بحیرہ روم میں ایک کشتی سے لگ بھگ ایک درجن مسیحی تارکین وطن کو سمندر میں پھینکنے کے الزام میں 15 افریقی افراد کو گرفتار کیا ہے۔

سسیلی کے دارالحکومت پالیرمو میں پولیس نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق آئیوری کوسٹ، مالی اور سینیگال سے ہے اور انھیں بچ جانے والے تارکین وطن کے اس بیان کے بعد حراست میں لیا گیا کہ انھوں نے نائیجیریا اور گھانا سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو سمندر میں پھینکا اور دیگر مسیحیوں کے ساتھ بھی ایسا کرنے کی دھمکی دی۔

گرفتار کیے گئے 15 افراد کو مذہبی منافرت کی بنیاد پر قتل کرنے کا الزام ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ "اس تنازع کی وجہ ان کے عقائد بتائی جاتی ہے۔ ڈوب جانے والے 12 افراد نائیجیریا اور گھانا سے تعلق رکھتے تھے۔"

بچ جانے والے افراد کے بیان سے بحیرہ روم کے ذریعے سفر کرنے والے ہزاروں تارکین وطن سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال اب تک 20 ہزار تارکین وطن اٹلی کے ساحلوں تک پہنچے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے اندازوں کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برس اسی عرصے میں یہاں آنے والوں سے کچھ کم ہے لیکن اس سفر میں ہونے والی اموات ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔

رواں ہفتے تقریباً 450 افراد مارے گئے جب کہ بچائے جانے والے تارکین وطن نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے ہمراہ سفر کرنے والے 41 افراد بھی ڈوب چکے ہیں۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد بدھ کو لگ بھگ 100 تارکین وطن میں شامل تھے جنہیں بدھ کو پالیرمو پہنچایا گیا۔ بچائے گئے افراد میں سے دس نے بیان دیا تھا کہ وہ لوگ منگل کو ایک ربڑ کشتی میں لیبیا سے نکلے تھے۔

XS
SM
MD
LG