رسائی کے لنکس

ہارورڈ یونیورسٹی میں نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم نے بے نظیر بھٹو کو کیوں یاد کیا؟


نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈ آرڈرن نے جمعرات کو امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کیا۔
نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈ آرڈرن نے جمعرات کو امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے ایک خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "وہ ٹھیک کہتی تھیں کہ ہمیں اس بات کا احساس رکھنا چاہیے کہ جمہوریت کمزور ہو سکتی ہے۔"

جمعرات کو امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم نے پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

آرڈرن نے کہا کہ کئی دہائیوں قبل بے نظیر بھٹو نے ایک خاتون ہونے کے ناطے جو راستہ چنا تھا وہ آج بھی متعلقہ محسوس ہوتا ہے جب کہ جمہوریت کے حوالے سے اُن کے خیالات بھی آج کے دور سے مطابقت رکھتے ہیں۔

آرڈرن کے مطابق "بے نظیر بھٹو نے جون 1989 میں اسی مقام پر اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ ہمیں یہ احساس رکھنا چاہیے کہ جمہوریت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور یہ کمزور ہو سکتی ہے۔"

آرڈرن نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے سیاسی سفر، نمائندہ حکومت، انسانی حقوق اور جمہوریت کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم کے بقول بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کو درپیش خطرات سے متعلق جو وجوہات بیان کی تھیں وہ آج کے دور سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ لیکن اُن کے الفاظ سچ تھے کیوں کہ جمہوریت کو آج کے دور میں بھی خطرات درپیش ہو سکتے ہیں۔

جیسنڈا آرڈرن نے بتایا کہ اُن کی جون 2007 میں جنیوا میں بے نظیر بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی جس کے چھ ماہ بعد اُنہیں قتل کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو 1988 میں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں تھیں۔ آرڈرن اور بے نظیر بھٹو میں یہ بھی مماثلت ہے کہ دونوں نے وزارتِ عظمی کے دوران بچوں کو جنم دیا تھا۔

بے نظیر بھٹو 1988 میں پہلی مسلم خاتون وزیرِ اعظم بنیں تھیں۔
بے نظیر بھٹو 1988 میں پہلی مسلم خاتون وزیرِ اعظم بنیں تھیں۔

سوشل میڈیا جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ

اپنے خطاب میں جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ آج کے دور میں جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا سے ہے۔ کیوں کہ جس رفتار سے معلومات کا پھیلاؤ ہو رہا ہے، اس میں غلط معلومات بھی پھیل رہی ہیں جس سے لامحالہ جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس وعدے کے ساتھ آئے تھے کہ یہ لوگوں کو جوڑنے کا کام دیں گے۔ ایسے میں اربوں لوگ اس سے منسلک ہوئے۔ بجائے اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہم سوچ کے نئے زاویوں کا تجربہ کرتے اور اختلافِ رائے کو سراہتے، آج کے دور میں یہ دونوں مقاصد پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

اپنے خطاب کے دوران جیسنڈا آرڈرن نے اسلحے پر کنٹرول کے قوانین کا تذکرہ کیا تو ہال میں موجود افراد نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ جیسنڈا آرڈرن نے اسلحہ قوانین کا تذکرہ ایسے موقع پر کیا جب دو روز قبل امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک اسکول میں 18 سالہ نوجوان کی فائرنگ سے 19 بچے اور دو اساتذہ ہلاک ہو گئے تھے۔

آرڈرن کا کہنا تھا کہ 15 مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ایک شخص نے فائرنگ کر کے 50 سے زائد افراد کو ہلاک کیا اور اس ساری کارروائی کو سوشل میڈیا پر براہ راست دکھایا۔ بعدازاں تحقیقات میں پتا چلا کہ مذکورہ شخص آن لائن مواد دیکھ کر بنیاد پرستی کی طرف راغب ہوا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ہم نےمحسوس کیا کہ اسلحے کے کنٹرول کے لیے ہمیں بڑے پیمانے پر اصلاحات درکار ہوں گی اور پھر ہم نے ان پر عمل درآمد کیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو انتہاپسندی پر راغب کرنے کے سدِ باب کے لیے حکومتوں، سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔

اُنہوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی طاقت کا ادراک کریں اور آن لائن ماحول کی تشکیلِ نو کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ایسے ایلگورتھم ڈیزائن کریں جس سے آن لائن انتہا پسندی کی ترغیب کا سدِ باب ہو سکے۔

XS
SM
MD
LG