رسائی کے لنکس

بین الاقوامی تنظیم کا ایرانی خاتون صحافی کی رہائی کا مطالبہ


نرگس محمدی (فائل)

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے قید ایرانی صحافی اور انسانی حقوق کی وکیل نرگس محمدی کے خلاف لگائے گئے ''بے تکے الزام'' کی مذمت کی ہے۔ وہ 2015ء سے ایرانی قید میں بند ہیں۔

پیرس میں قائم ذرائع ابلاغ کے نگراں ادارے نے جمعے کو ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر مامور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جاوید الرحمٰن پر زور دیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور ایران میں طویل عرصے سے قید خاتون صحافی کی رہائی کے لیے درکار تمام کوششیں کی جائیں۔

نرگس، جو ایران میں انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے مرکز کی ترجمان بھی رہی ہیں، 10 سال کی قید کاٹ رہی ہیں۔ انھیں حکومت مخالف پروپیگنڈا اور ایک کالعدم گروپ کی رکن ہونے کی پاداش میں سزا سنائی گئی تھی۔

فرد جرم کے مطابق، یہ گروپ دیگر باتوں کے علاوہ سزائے موت کے خاتمے کے لیے کمر بستہ رہا ہے۔

ایران کے عدالتی حکام کو تحریر کردہ ایک حالیہ مرسلے میں، ان کے بھائی نے بتایا کہ اب ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ ساتویں صدی میں شہید ہونے والے امام حسین کے ماتم کے دنوں کے دوران وہ جیل میں رقص کرتی رہیں۔

مہدی محمدی، جنھوں نے ان دنوں ناروے میں پناہ لے رکھی ہے، یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی بہن کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن، صحت کا معائنہ کرانے کے لیے ڈاکٹر سے رابطے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ایران و افغانستان ڈیسک کے سربراہ، رضا معینی نے کہا ہے کہ ''نرگس محمدی کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم کا ثبوت عدالتی امتیاز سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، جو انٹیلی جینس کی وزارت اور انصاف کے نظام سے وابستہ اعلیٰ اہلکارں کی ایما پر کیا جا رہا ہے''۔

47 سالہ نرگس متعدد معروف انعامات جیت چکی ہیں، جن میں 2018ء میں دیا جانے والا امریکی فزیکل سوسائٹی کا ایندری سخاروف پرائز بھی شامل ہے، جو انسانی حقوق کو سربلند رکھنے کے کام اور قائدانہ صلاحیت پر دیا جاتا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی 2020ء کی انڈیکس میں 180 ملکوں اور علاقہ جات میں سے ایران کو 173ویں درجے پر دکھایا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG