رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا میں کرونا وائرس کی شدت نسبتاً کم، ممالک کیا اقدامات کر رہے ہیں؟


(فائل فوٹو)

کرونا وائرس کی چین کے بعد یورپ میں تباہ کاریاں جاری ہیں لیکن جنوبی ایشیا کا خطہ یورپ، چین اور امریکہ کے مقابلے میں نسبتاً بہتر حالات میں ہے۔

ایک ارب 90 کروڑ سے زائد آبادی والا جنوبی ایشیا کا یہ خطہ دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت کرونا وائرس سے کم متاثر دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن پاکستان، بھارت، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا میں 'کووڈ 19' کے کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے۔

مذکورہ ممالک میں مجموعی طور پر اب تک 869 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ کم از کم سات ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔ لیکن حالات ابھی قابو سے باہر نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن کسی بھی ممکنہ صورتِ حال کے پیشِ نظر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مختلف ممالک اپنے طور پر احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں جن میں لاک ڈاؤن اور سرحدوں کی بندش اولین ترجیح ہیں۔

بنگلہ دیش

بنگلہ دیش نے ملک میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اپنی سرحدوں سے آمدورفت میں مزید سختی کر دی ہے۔ ملک میں ہونے والے تمام انتخابات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں اب تک کرونا وائرس کے 20 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ ایک شخص اس وبا سے ہلاک ہوا ہے۔

بنگلہ دیش نے جمعے کی رات سے چین، ہانگ کانگ اور تھائی لینڈ کے علاوہ دیگر تمام ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ڈھاکہ ایئرپورٹ پر بیرونِ ملک سے آنے والے ان مسافروں کے ہاتھوں پر شناخت کے لیے نشانات بھی لگائے جا رہے ہیں جنہیں قرنطینہ میں رہنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

سری لنکا

سری لنکا نے پورے ملک میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جو پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔ حکام نے ہفتے کو کرفیو کی خلاف ورزی پر 30 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

سری لنکا میں کرونا وائرس کے 72 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

بھارت

دوسری جانب بھارت میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ بہت ہی کم تعداد میں کیے جا رہے ہیں۔ نئی دہلی میں وزارتِ صحت کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق بھارت میں اب تک صرف 1500 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت ہمیں معلوم نہیں کہ کرونا وائرس ملک میں کتنی شدت سے پھیل رہا ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نے اتوار کو ملک بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔ 'جنتا کرفیو' صرف ایک روز کے لیے صبح سات بجے سے رات نو بجے تک نافذ رہے گا۔

بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 271 ہو چکی ہے جس کے بعد بھارتی حکومت تمام بین الاقوامی پروازوں پر پابندی لگانے پر بھی غور کر رہی ہے۔

پاکستان

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ملک بھر میں اب تک 500 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ تین ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

پاکستان نے ملک میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات کر رہی ہے جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں قرنطینہ اور عارضی اسپتال قائم کیے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG