رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان جنگ میں جاپان کی بحریہ کاکردار ختم


افغانستان جنگ میں جاپان کی بحریہ کاکردار ختم

امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں جاپان کی بحریہ کا کردار ہفتے کو اس وقت ختم ہو گیا جب فوجی کارروائیوں میں مصروف اتحادی ملکو ں کے جہازوں کو پچھلے آٹھ سالوں سے ایندھن فراہم کرنے والے دو جاپانی بحری جہاز ٹوکیو واپس پہنچ گئے۔

بندرگاہ پر ان جہازوں کی آمد کے موقع پر عملے کے ارکان کے رشتہ داروں نے اُن کا بھر پور انداز میں استقبال کیا۔

جاپان نے اپنے جہازوں کو واپس بلانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جاپانی وزیراعظم یوکی او ہاتویاما نے ماشو نامی ایندھن فراہم کرنے والے جہاز اور اس کی حفاظت کرنے والے اِکازوچی نامی جہاز کے عملے کی پیشہ وارانہ خدمات کی تعریف کی۔

اِن جہازوں کی بحرہند میں تعیناتی کے قانون کی مدت ختم ہونے کے بعد پچھلے ماہ جاپانی وزیراعظم نے انھیں وطن واپس آنے کا حکم دیا تھا۔

جاپان نے بحرہند میں اپنا بحری تعاون ایک ایسے وقت ختم کیا ہے جب امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہو ا ہے۔

جاپانی وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کر رکھا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ماضی کی حکومتوں کے پالیسیوں کے برعکس وہ ایک آزاد خارجہ پالیسی اپنائیں گے۔ انھوں نے ستمبر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جاپان کے دونوں بحری جہازوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا

۔
وزیر اعظم ہاتویاما کی حکومت نے افغانستان میں تعمیر نو کے لیے کئی ارب ڈالر مالی امداد دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG