رسائی کے لنکس

logo-print

قید سے فرار میں بندر انسانوں سے پیچھے نہیں


فائل فوٹو

انسانی تاریخ میں قید سے فرار کے مختلف اور اچھوتے طریقے اکثر نظر سے گزرے ہیں مگر حال ہی میں بندروں کا انسانی قید سے فرار کا ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس نے ماہرین کو حیرت زدہ کردیا۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق ایچی کے علاقے میں قائم کیوٹو یونیورسٹی میں اعلیٰ سطحی تحقیق کرنے والے انسٹی ٹیوٹ میں موجود بندروں میں سے 15نے درختوں کی شاخوں کولچکا کر خود کو 17 فٹ اونچے جنگلے کے اوپر سے اچھال دیا۔بندروں کو اس جنگلے سے دور رکھنے کے لیے اس میں برقی رو بھی دوڑ رہی تھی اور جنگلا درختوں سے تقریباً دس فٹ دور کھڑا کیا گیا تھا۔

البتہ کمال ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک بعد دیگرے جنگلا پھلانگنے کے بعد یہ بندر تحقیقاتی مرکز کے داخلی راستے کے پاس اکھٹے ہو گئے اور ماہرین نے ان کو مونگ پھلیوں کا لالچ دے کر ایک بار پھر اپنے قبضے میں لے لیا۔

انسٹی ٹیوٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار ہیروہیسا ہیرائے نے ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا کہ یہ فرار حیران کن تھا اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔

ان کے مطابق سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ جنگل میں موجود تقریباً 80 بندروں کا آپس میں کوئی جھگڑا تھا جس کے باعث ان میں سے کچھ نے یہاں سے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاگنے کے لیے جس ذہانت کا استعمال کیا گیا وہ سب کے لیے حیران کن تھا۔

اس واقعے کے بعد مرکز میں جنگلے کے قریب درخت کاٹ دیے گئے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG