رسائی کے لنکس

جاپانی وزیرِاعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام


جاپانی وزیراعظم

جاپانی پارلیمان میں وزیرِاعظم ناؤ تو کان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوگئی ہے جبکہ جاپانی وزیرِاعظم یہ پیشکش کر چکے تھے کہ وہ آئندہ مہینوں میں مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔

جمعرات کوحکمران جماعت 'ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان' کے ایک اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ 11 مارچ کے تباہ کن زلزلے کے ردِ عمل میں کی جانے والی سرگرمیوں کے نتائج واضح ہونے کے بعد وہ اپنے اختیارات نوجوان نسل کے سپرد کرنے پر رضامند ہیں۔

زلزلے کے بعد تعمیرِ نو اور بحالی کی سرگرمیوں اور فوکوشیما جوہری بجلی گھر کی تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے میں ناکامی کے باعث جاپانی وزیراعظم پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا تھا۔

اس سے قبل حکمران جماعت کے کئی درجن اراکین نے اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمان میں پیش کی گئی تحریِک عدم اعتماد کے دوران حزبِ مخالف کی جماعتوں کا ساتھ دیں گے۔

تاہم بعد ازاں تحریک پر ہونے والی رائے شماری میں حکمران جماعت کی اراکینِ پارلیمان کی اکثریت نے وزیرِاعظم کان کے حق میں ووٹ دیا جس کے باعث ان کے خلاف تحریک ِ عدم اعتماد 293 کے مقابلے میں 152 ووٹوں سے ناکام ہوگئی۔ وزیرِاعظم نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے خلاف تحریک کامیاب ہوگئی تو وہ پارلیمان تحلیل کرتے ہوئے نئے انتخابات کا اعلان کردیں گے۔

حزبِ مخالف کی جانب سے وزیرِاعظم کان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد بدھ کے روز جمع کرائی گئی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جاپانی وزیرِاعظم 'چرنوبل' کے بعد دنیا کے سب سے بڑے جوہری حادثہ کے مقابلے میں قائدانہ کردار کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جاپانی عوام کی اکثریت بھی وزیرِاعظم سے ناخوش ہے اور عوام میں ان کی پسندیدگی کی شرح مسلسل 30 فی صد سے نیچے چلی آرہی ہے۔

جمعرات کی صبح پارٹی اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیرِاعظم کان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں جاپانی عوام کی طرف سے خود پر عائد کردہ ذمہ داریوں کو ہر صورت انجام دینا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ زلزلے کے بعد کی سرگرمیوں کے اثرات واضح ہونے اور قابل ذکر حد تک اپنے فرائض ادا کرنے کے بعد وہ اپنی بہت سی ذمہ داریاں منتقل کرنا چاہیں گے۔

XS
SM
MD
LG