رسائی کے لنکس

logo-print

جاپان میں دو شدید زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیوں میں تیزی


حکام کے مطابق 44 ہزار کے لگ بھگ افراد نے رات اپنے گھروں سے باہر کھلے آسمان تلے گزاری۔

جاپان میں دو روز کے دوران آنے والے دو شدید زلزلوں سے 29 افراد ہلاک اور 1500 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے متعدد افراد دبے ہوئے ہیں۔

ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اس بنا پر اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہفتہ کو بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور بعض دور افتادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جمعہ کو دیر گئے آنے والے زلزلے کی شدت 7.3 ریکارڈ کی گئی جس سے جنوب مغربی جزیرے کوماموٹو میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ جمعرات کو کیوشو میں 6.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے مزید فوجی اہلکاروں کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہاں لوگوں کو کلی طور پر امداد فراہم کی جائے۔

جاپان کے محکمہ موسمیات نے کیوشو میں آنے والے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ بھی جاری کی تھی لیکن کچھ دیر کے بعد اس منسوخ کر دیا گیا۔

متاثرہ علاقوں میں پہلے سے ہی تقریباً 1600 فوجی، 2000 پولیس اہلکار اور 1300 دیگر امدادی کارکنان مصروف عمل ہیں۔

ان دو زلزلوں سے کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں جب کہ یٹسوشیرو شہر میں ایک رہائشی عمارت میں زلزلے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ان عمارتوں کے ملبے تھے اب بھی متعدد افراد دبے ہو سکتے ہیں۔

جمعرات سے ایک سو سے زائد بعد از زلزلہ جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔

زلزلوں کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام میں بھی خلل آیا ہے اور اس سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والوں کے لیے ایک اور مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق 44 ہزار کے لگ بھگ افراد نے رات اپنے گھروں سے باہر کھلے آسمان تلے گزاری۔

XS
SM
MD
LG