رسائی کے لنکس

میزائلوں کی کھوج کے لیے جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ مشقیں


فائل

جاپان کی سیلف ڈیفنس فورس کا کہنا ہے کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا پیر سے میزائلوں کا کھوج لگانے کی دو روزہ مشقیں شروع کریں گے۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت کی جائیں گے جب شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے پروگرام کی وجہ سے خطے میں کشدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا نے گزشتہ ماہ بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کی تھیں جن کے بارے میں شمالی کوریا نے کہا تھا کہ ان کی وجہ سے جنگ کا شروع ہونا "حقیت میں ٹھہر گیا ہے ۔"

شمالی کوریا اقوام متحد ہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی مذمت کے باوجود جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ پیانگ یانگ نے 29 نومبر کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکہ کی سرزمین تک مار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

جاپان کی ڈیفنس فورس کا کہنا ہے کہ تین ملکوں کے درمیان اس ہفتے شروع ہونے والی مشقیں بیلسٹک میزائلوں کا کھوج لگانے کے لیے ہونے والی چھٹی مشقیں ہوں گی۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل دفاعی نظام 'تھاڈ' کا استعمال عمل میں لایا جائے یا نہیں۔

جنوبی کوریا میں امریکہ کے میزائل دفاعی نظام تھاڈ 'ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس' کی تنصیب پر چین اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ اس کے طاقتور ریڈار چین کے بہت اندر تک دیکھ سکیں گے جس کی وجہ سے اس کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

شمالی کوریا کی طرف سے گزشتہ ماہ کیے جانے والے میزائل تجربے کے بعد امریکہ نے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں شمالی کوریا کی قیادت کو "مکمل طور پر تباہ" کر دیا جائے گا۔ شمالی کوریا کے طرف سے کیے جانے والے تجربات کے بعد پینٹاگان نے متعدد بار (فوجی ) طاقت کے مظاہرے کیے ہیں۔

امریکہ نے چین اور دیگر ملکوں پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات منقطع کر لیں۔ اس اقدام سے پیانگ یانگ کو غیر قانونی رقوم کی ترسیل کو روکا جا سکے گا تاکہ وہ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے فنڈ حاصل نا کر سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG