رسائی کے لنکس

logo-print

جنگ عظیم دوم میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے 65 برس


جنگ عظیم دوم میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے 65 برس

جاپان کی جانب سے جنگ عظیم دوم میں ہتھیار ڈالنے کے 65 برس مکمل ہونے پر اتوار کے روز ملک میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور اس موقع پر وزیر اعظم ناؤتو کان نے اس جنگ کی وجہ سے ہوئے نقصانات پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم ناؤتو کان اور شہنشاہ آکی ہیتو، جن کے والد ہیرو ہیتو نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا، نے دارالحکومت ٹوکیو کے نیپون بودوکان ہال میں منعقدہ ایک یادگاری تقریب میں حصہ لیا، جس میں انھوں نے عہد کیا کہ آئندہ جاپان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

نہ وزیر اعظم ناؤتو کان اور نہ ہی ان کی کابینہ کے کسی رکن نے متنازع یاسوکونی مزار پر حاضری دی جو کہ جنگ میں مارے گئے 25 لاکھ افراد کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مزار جنگ عظیم دوم کے 14 جنگی مجرموں کی بھی یاد دلاتا ہے۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کے ارکان بشمول سابق وزیر اعظم سِن زو آبے اور حزب اختلاف کے رہنما ساداکازو تانی گاکی نے ہزاروں سابق فوجیوں، سیاسی رہنماؤں اور جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ یاسوکونی مزار پر ہوئی تقریب میں حصہ لیا۔

XS
SM
MD
LG