رسائی کے لنکس

جاپان کے لیے امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا کیوں ضروری ہے؟


جاپانی وزیر اعظم یوشی ہیدا سوگا۔ فائل فوٹو
جاپانی وزیر اعظم یوشی ہیدا سوگا۔ فائل فوٹو

جاپانی وزیر اعظم یوشی ہیدا سوگا کل جمعہ کے روز وہائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ کسی غیر ملکی رہنما کا وائٹ ہاوس کا پہلا دورہ ہے۔

وائس آف امریکہ کےنامہ نگار ولیم گیلو کی رپورٹ کے مطابق، مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں امریکہ اور جاپان کے اتحاد کی اہمیت کی نشاندہی کرتی ہے جب ان ممالک کے مشترکہ حریف چین کی طاقت اور جارحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جاپان کی موجودہ حکومت کی جانب سے بیجنگ پر انسانی حقوق کی پامالی اور مشرق اور جنوبی چین کے متنازعہ پانیوں میں دراندازی کے معاملات پر بعض اوقات چین کی جانب کچھ زیادہ ہی سخت موقف اختیار کیا گیا تھا۔

اس سے اس بات کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ جاپان اور چین کے تعلقات میں تبدیلی آ رہی ہے، جو ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے حریف اور تجارتی شراکت دار ہیں۔ لیکن کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپان کے وزیر اعظم بائیڈن سے اپنی ملاقات میں چین کو زیادہ برہم بھی نہیں کرنا چاہیں گے۔

جاپان کا یہ نیا روپ ان امریکی قانون سازوں کے لیے حوصلہ افزا ہے، جو چین کے بارے میں زیادہ سخت موقف اختیار کرنے کے حق میں ہیں۔ امریکہ کی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بل ہیگرٹی کا کہنا ہے کہ چین سے کس طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، یہ بات اب امریکہ کے اتحادیوں کی سمجھ میں آنا شروع ہو گئی ہے۔ سینیٹر ہیگارٹی 2019 تک جاپان میں امریکی سفیر کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سینیٹر ہیگرٹی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہو یہ رہا ہے کہ باقی ایشیا کو بھی اب یہ خطرہ نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ باقی ایشیائی ملک بھی ہمارے ماڈل کی جانب متوجہ ہو نگے۔

انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ہم ان سب کو اپنا ہم خیال بنائیں اور یہ دکھائیں کہ ہماری جمہوری اقدار اور آزاد مارکیٹ کے اصول اختیار کرنا ہی بہترین رویہ ہو گا۔

تاہم، امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں مشرقی ایشیائی امور کی ماہر، مائریا سولِس کہتی ہیں کہ جاپان کی چین سے مقابلے کے لیے آگے کی جانب بڑھنے اور چند سال پہلے احتیاط کے ساتھ چین سے تجدید تعلقات کے لئے بنائی گئی پالیسی کو نظر انداز کرنے پر جاپان کے چند پالیسی حلقوں میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے

جاپانی وزیر اعظم سوگا کے امریکہ کے دورے سے قبل چین کی وزارت خارجہ نے جاپان کو متنبہ کیا تھا، کہ جاپان چین کے خلاف متعصبانہ سوچ رکھنے والے کچھ ممالک کے ذریعہ گمراہ ہو رہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں، چین نے اوکیناوا کے قریب، جہاں امریکی فوجیں موجود تھیں، ایک بحری اسٹرائیک گروپ بھیجا تھا۔

جاپان میں اس وقت 55,000 امریکی فوجی موجود ہیں اور دونوں ملک اپنے اتحاد کو عموماً ایشیائی خطے میں امن و استحکام کیلئے سنگ میل قرار دیتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے جنوری میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد، جاپان کے ساتھ امریکہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی کثیر ملکی اتحادوں میں واپسی پر توجہ دی ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ان اداروں پر یا تو تنقید کی تھی یا پھر اِن سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

امریکہ میں جاپان کے سفیر کوجی تومیتا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاپان امریکی صدر جو بائیڈن کی کثیر ملکی اتحادوں میں واپسی اور بین الاقوامی برادری کی قیادت دوبارہ سنبھالنے کی حمایت کرتا ہے۔

جاپانی سفیر نے مزید کہا کہ جاپان چین کے ساتھ بھی مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے تاہم چین کے حوالے سے جاپان کے خدشات بدستور موجود ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک، ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین کے ساتھ زیادتی اور غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔

جزیرہ تائیوان بھی اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چین اس پر ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے۔ تاہم چند جاپانی لیڈروں کی سوچ ہے کہ جاپان کو امریکہ کے ساتھ مزید قریبی تعاون کر کے چین کی جانب سے تائیوان کو ڈرانے دھمکانے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئیے۔

ٹوکیو میں قائم ٹیمپل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیمس ڈی جے براؤن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سوگا پر جاپان کے چند ایسے سماجی اور سیاسی حلقوں کا دباؤ بھی ہے جو تائیوان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

پروفیسر براؤن کے خیال میں، اگر جاپان کے موجودہ وزیر اعظم چین کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے احتراز کرتے ہیں، تو شائد انہیں امریکہ ہی نہیں، بلکہ ممکنہ طور پر اپنی جماعت کے اندر سے تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تاہم براؤن کہتے ہیں کہ سوگا چین پر ایک حد سے زیادہ تنقید نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ جاپان مجموعی طور پر سخت بے چینی کا شکار ہے کہ اسے چین کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر براؤن کہتے ہیں کہ ٹوکیو میں عہدیدار اس بات پر تو بہت خوش ہیں کہ امریکہ نے چین کےخلاف سخت موقف اپنایا ہے، لیکن وہ خود ایسا کرنے سے کتراتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چین اپنی معاشی اور فوجی طاقت کو استعمال کر کے جاپان کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG