رسائی کے لنکس

logo-print

شبانہ اعظمی اور جاوید اختر کی پاکستان آنے سے معذرت


بالی وڈ اداکارہ شبانہ اعظمی اپنے شوہر شاعر اور مصنف جاوید اختر کے ساتھ

نامور بھارتی شاعر کیفی اعظمی کی یاد میں ہونے والی ادبی نشست جسے 23 اور 24 فروری کو کراچی میں منعقد ہونا تھا، مہمانوں کی عدم شرکت کے سبب ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس تقریب کے سب سے خاص مہمان کیفی اعظمی کی صاحبزادی معروف فلمی اداکارہ شبانہ اعظمی اور شاعر جاوید اختر تھے جو کیفی اعظمی کے داماد بھی ہیں۔

ان دونوں شخصیات کو رواں ہفتے ہی اس تقریب میں خصوصی شرکت کے لئے پاکستان پہنچنا تھا۔ لیکن آج ٹوئیٹر پر ایک پیغام کے ذریعے جاوید اختر نے بتایا کہ وہ کراچی نہیں آ رہے جس پر بھارتی شہریوں کی جانب سے اس اقدام کی تعریف کی گئی جب کہ پاکستانی مداحوں میں مایوسی پھیل گئی۔

بھارتی میڈیا میں چھپنے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ ان کی عدم شرکت کی وجہ گزشتہ روز کشمیر میں بھارتی فوج کے قافلے پر ایک بڑا خود کش حملہ ہے۔ جس میں ہلاک ہونے والے سیکورٹی اہل کاروں کی تعداد 49 ہو گئی ہے۔ حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بار پھر لفظی جنگ کا آغاز ہو گیا۔

آرٹس کونسل کے منتظم اور صدر احمد شاہ کے مطابق پروگرام کی تمام تیاریاں مکمل تھیں لیکن اس واقعے کے بعد جس طرح بھارتی میڈیا پر پاکستان کے خلاف الزام تراشیاں اور پاکستانی میڈیا پر اس کا ردعمل آنے لگا، اس سے ایک بار پھر سے دونوں ملکوں کے درمیان لفظی جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے جس کا اثر فنکاروں پر ہی پڑنا تھا۔

احمد شاہ کے مطابق انھیں صبح سے ہی جاوید اختر اور شبانہ اعظمی کی سیکرٹری کی جانب سے کالز اور پیغامات وصول ہونا شروع ہوئے جس میں ان سے یہ مشورہ بھی مانگا گیا کہ ان حالات میں کیا کیا جانا چائیے۔

احمد شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے مہمانوں کو بتایا کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ان کا یادگار استقبال کرنے کی تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ لیکن یہاں سے بھارت واپسی پر شبانہ اعظمی اور جاوید اختر کو مسائل کا سامنا ہو سکتا تھا۔ اس لئے انکے نہ آنے کا فیصلہ درست ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے احمد شاہ کا کہنا تھا کہ کیفی اعظمی کی یاد میں ہونے والی اس ادبی نشست کے لئے شبانہ اعظمی نہ صرف بہت خوش تھیں بلکہ انھوں نے اس پروگرام میں گہری دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔ وہ پاکستان میں کیفی اعظمی کا ایک البم لانچ کرنے کا بھی ارادہ رکھتی تھیں۔ اس خاص تقریب میں نامور شاعر افتخار عارف، کشور ناہید اور فیض احمد فیض کے اہل خانہ بھی شرکت کر رہے تھے جبکہ پاکستان میں بھارت کے ان خصوصی مہمانوں کا بے صبری سے انتظار کیا جارہا تھا۔

احمد شاہ نے مزید کہا کہ ایسے حالات کا سامنا ماضی میں بھی رہا ہے۔ لیکن ہم نے امن کی خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری۔ ایسے حالات کا رونما ہونا امن کے خلاف تو سازش ہے ہی، لیکن اس ساتھ ساتھ یہ آرٹ اور کلچر سے بھی دشمنی ہے کیونکہ آرٹ اور کلچر بہترین ڈپلومیسی کا رول ادا کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پروگرام صرف ملتوی کیا گیا ہے ، منسوخ نہیں کیا گیا۔ اگر مستقبل میں حالات سازگار ہو جاتے ہیں اور دونوں مہمان آ جاتے ہیں تو جولائی میں یہ نشست ہو سکتی ہے، کیونکہ پہلے بھی یہ پروگرام 19 جولائی کو ہونا تھا لیکن جاوید اختر کی خواہش پر اسے جلدی رکھا گیا تھا۔

بھارتی مہمانوں کی عدم شرکت کی خبر ادب و فن سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لئے بھی افسوس کا سبب بن گئی ہے۔ نامور ڈرامہ نگار حسینہ معین کا کہنا تھا میرے لئے یہ افسوس ناک واقعہ ہے۔ جب بھی کوئی ایسا پروگرام طے ہو تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ چونکہ وہ دونوں شخصیات بھارتی شہری ہیں تو یقیناً ان کا یہاں آنا اور پھر واپس جا کر نتائج کا سامنا کرنا ان کے لئے مسائل پیدا کر سکتا تھا۔ ایسے میں انسان ڈر کر یہی سوچتا ہے کہ نہ جانا ہی بہتر ہے۔

ماضی میں اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے حسینہ معین کہنا تھا کہ جب انھوں نے بھارتی فلم حنا لکھی تو اس کی ریلیز کے وقت بابری مسجد کا واقعہ رونما ہوا جس پر انھوں نے فلمساز رندھیر کپور کو منع کیا کہ فلم کے کریڈٹ پر ان کا نام نہ دیا جائے کیونکہ اس سے ان کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوں گی اور انہیں بھی اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس پر رندھیر کپور نے ان کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے ٹائیٹل پر سے ان کا نام ہٹا دیا۔

حسینہ معین کا کہنا تھا کہ یہ واقعات بحرحال پریشان کن ہیں جو انسان کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتے اور اسے مجبوراً فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ شبانہ اور جاوید اختر نے نہ آنے کا فیصلہ بھی ان ہی حالات کی مجبوری میں کیا ہو گا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ فن سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ پرامن اور پڑھے لکھے ہیں لیکن ان واقعات کے ہاتھوں نہ صرف ہمیں دبنا پڑتا ہے بلکہ دباؤ کو بھی سہنا پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG