رسائی کے لنکس

logo-print

ملتان: جاوید ہاشمی کے پمفلٹ کی تقسیم پر اعتراضات


جاوید ہاشمی کی جانب سے فضاٴ سے زمین پر پمفلٹ تقسیم کئے جانے کی اطلاعات پر الیکشن کمیشن نے فوری تشہیری مہم رکوانے کی ہدایات جاری کردیں۔ جاوید ہاشمی کا کہنا ہے پمفلٹ انتخابی نہیں ’اشتہاری‘ ہے

سولہ اکتوبر کو صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں انتہائی اہم انتخابی معرکہ ہونے والا ہے۔ ملک کی تین بڑی پارٹیوں کی سیاسی کارگردگی اس سے جڑی ہے۔ یہ حلقہ ہے این اے 149ملتان، جہاں سے جاوید ہاشمی، پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر جاوید صدیقی اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار عامر ڈوگر سمیت17امیدوار ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔

یہ نشست 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں جاوید ہاشمی نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی حیثیت سے جیتی تھی۔ تاہم، جاوید ہاشمی نے پی ٹی آئی اور قومی اسمبلی کی رکنیت، دونوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب ایک بار پھر جاوید ہاشمی یہاں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

دلچسپ ڈرامائی صورتحال
جمعرات کو ہونے والے انتخابات کے لئے گزشتہ روز یعنی منگل کی رات 12بجے انتخابی مہم ختم ہوگئی تھی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق، بدھ کو کسی بھی رکن کی جانب سے کمپیننگ نہیں کی جاسکتی تھی۔ تاہم، اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی جب اس حلقے میں ہیلی کاپٹر سے جاوید ہاشمی کے انتخابی پمفلٹ گرائے گئے۔

اس اقدام پر الیکشن کمیشن نے فوری نوٹس لیتے ہوئے صوبائی الیکشن کمیشن سے رابطہ کرکے تشہیری مہم کو فی الفور روکنے کی ہدایات جاری کیں۔

خبر کا آنا تھا کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز نے اسے نمایاں انداز میں کوریج دینا شروع کردیا۔ ان چینلز میں ’جیو نیوز‘ اور ’سماٴ‘ شامل ہیں۔ میڈیا سے جاری ہونے والی خبروں کے مطابق، مذکورہ صورتحال کو سنبھالنے کی غرض سے جاوید ہاشمی کو ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کرنا پڑی۔

پریس کانفرنس میں جاوید ہاشمی نے موٴقف اختیار کیا کہ ان کی انتخابی مہم نہیں بلکہ اشتہار ہے اور اسی قسم کے اشتہارات بدھ کے اخبارات میں بھی شائع ہوئے ہیں۔

اپنی بات کی وضاحت کے لئے انہوں نے 2002ء کے انتخابات میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری کی مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے بھی اسی طریقے سے اشتہاری پمفلٹ تقسیم کرائے تھے اور عدالت نے انہیں باقاعدہ اس کی اجازت دی تھی۔

جاوید ہاشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پمفلٹ کی تقسیم پر 40 ہزار روپے خرچ آیا۔

XS
SM
MD
LG