رسائی کے لنکس

سوال یہ ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا: چیف جسٹس کے ریمارکس


جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل ٹرسٹ کے مالک نہیں؛ ’’جب کبھی ٹرسٹ فنڈز سے متعلق اختیار استعمال کریں گے تو ٹرسٹی ان کو چیک دے گا‘‘۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ’’یہی تو قابل وصول تنخواہ ہے‘‘

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ عدالت کے پاس سوال یہ ہے کہ پیسا کہاں سے آیا اور پاناما کیس میں بھی یہی سوال تھا کہ پیسہ کہاں سے آیا.

ججز نے کہا کہ ’’دیکھ رہے ہیں وہ دستاویزات جو ریکارڈ پر ہیں۔ اس سے بے ایمانی کا سوال پیدا ہوتا ہے‘‘۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل ٹرسٹ کے مالک نہیں؛ ’’جب کبھی ٹرسٹ فنڈز سے متعلق اختیار استعمال کریں گے تو ٹرسٹی ان کو چیک دے گا‘‘۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ’’یہی تو قابل وصول تنخواہ ہے‘‘۔

عدالت عظمیٰ نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت لیز زمین اور زرعی آمدن سے متعلق مزید دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئیں۔ عدالت نے حنیف عباسی کے وکیل کو تحریری گزارشات جمع کرانے کا حکم دیا۔

وکیل حنیف عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ ’’زرعی آمدن پر جہانگیر ترین کے مؤقف میں تضاد ہیں‘‘۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ ’’زرعی ٹیکس کے معاملہ پر صوبائی اتھارٹی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ دیکھنا ہے کہ ریکارڈ پر آئی دستاویز سے بے ایمانی کا سوال پیدا ہوتا ہے یا نہیں؟‘‘ وکیل عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیر ترین اور ان کی اہلیہ ٹرسٹ کے تاحیات بینفیشری ہیں جسے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ’’ٹرسٹ کا سیٹلر مالک نہیں ہو سکتا۔‘‘ کاغذات نامزدگی میں جہانگیر ترین نے اپنے اثاثے بتانے تھے، ٹرسٹ ان کا اثاثہ نہیں تھا۔

چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ’’لیز زمین کے حوالے سے بہت سے معاہدے ہوئے۔ ہو سکتا ہے کہ توجہ نہ دی ہو کہ کاغذات نامزدگی پر مسئلہ ہو سکتا ہے‘‘۔ اس پر، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’’آپ نے لیز زمین کی ادائیگیوں کو چیلنج نہیں کیا۔ کروڑوں روپے کس مد میں ادا کیے گئے؟ وجہ بتائیں کہ یہ کروڑوں کی رقم لیز زمین کے لیے ادا نہیں ہوئی‘‘۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’’اگر لیز زمین کی ادائیگیوں کو چیلنج کرتے تو کوئی بات بنتی تھی‘‘۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ’’جہانگیر ترین نے لیز زمین کی ادائیگیاں بذریعہ چیک کیں، کسی مالک نے بھی لیز زمین کی ادائیگی پر اعتراض نہیں کیا‘‘۔

حنیف عباسی کے وکیل عاضد نفیس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لیز زمین آمدن پر ایک پیسہ بھی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ’’دیکھ رہے ہیں جو دستاویزات ریکارڈ پر ہیں۔ اس سے بے ایمانی کا سوال پیدا ہوتا ہے‘‘۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ’’پانامہ کیس میں سوال منی ٹریل کا تھا کہ جائیدادوں کے لئے پیسہ کہاں سے آیا؟ یہاں بھی سوال جائیداد خریداری کی منی ٹریل کا ہے‘‘۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو دیکھنا ہے کہ جو حربے استعمال کئے گئے کیا وہ ایماندار شخص استعمال کرتا ہے؟ پانامہ فیصلے میں عدالت نے کنڈکٹ کو دیکھ کر نااہلی کا فیصلہ دیا۔

مقدمے کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG