رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: ہندو، مسلم یکجہتی پر مبنی اشتہار تنازع کے بعد ہٹا دیا گیا


بھارت کے معروف کاروباری گروپ 'ٹاٹا' کی زیورات بنانے والی ذیلی کمپنی 'تنیشق' نے اعتراضات اور دھمکیوں کے بعد ہندو، مسلم اتحاد پر مبنی اشتہار ہٹا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جیولری کمپنی کے اشتہار میں گود بھرائی کی رسم کے دوران ہندو دلہن کے مسلمان سسرال والوں کو ہندو رسم و رواج کے تحت خوشی مناتے دکھایا گیا ہے۔

اشتہار میں بہو اپنی ساس سے پوچھتی ہے کہ "یہ رسم تو آپ کے گھر میں نہیں ہوتی ناں؟ اس پر ساس جواب دیتی ہے کہ 'بیٹی کو خوش رکھنے کی رسم تو ہر گھر میں منائی جاتی ہے۔"

مغربی گجرات کے شہر گاندھی دم میں 'تنیشق' کے ایک نمائندے نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ سینکڑوں دھمکی آمیز فون کالز موصول ہونے کے بعد اسٹور کے باہر معذرت پر مبنی نوٹس لگا دیا گیا ہے۔

پیر کو لگائے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 'تنیشق' اس نامناسب اشتہار کے باعث ہندو کمیونٹی کے جذبات مجروح کرنے پر معذرت خواہ ہے۔

جمعے کو جیسے ہی اشتہار ٹی وی پر نشر ہوا، سوشل میڈیا پر کمپنی کا بائیکاٹ ٹرینڈ ہونے لگا۔ جب کہ کچھ لوگوں نے تو کمپنی پر جہاد سے محبت کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کر ڈالا۔

اشتہار کو واپس لیے جانے کے باوجود اس پر تنقید کی جا رہی ہے کہ کمپنی کا شدت پسندوں کی جانب جھکاؤ ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس اشتہار کی وجہ سے جیولری اسٹور میں متعدد کالز کی گئیں، لیکن اس پر حملہ یا املاک کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔

سال 2019 کے انتخابات میں ٹاٹا گروپ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا سب سے بڑا ڈونر تھا، جب کہ یہی گروپ حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کو بھی چندہ دیتا رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کے نقادوں کا کہنا ہے کہ جب سے قوم پرست ہندو جماعت بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، تب سے ہی صدیوں پرانے ثقافتی تنوع اور بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے۔

بھارت کی ایک ارب 30 کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں کی شرح 15 فی صد کے لگ بھگ ہے۔ دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان شادیوں کا سلسلہ برسوں پرانا ہے، لیکن ملک کے بہت سے حصوں میں ابھی بھی اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔

سن 2019 میں بھی کپڑے دھونے کے لیے استعمال ہونے والے پاؤڈر کے ایک اشتہار کو بھی اسی نوعیت کے اعتراضات پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ادھر 'ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈ کونسل آف انڈیا' نے مذکورہ اشتہار سے متعلق ملنے والی شکایت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کسی بھی قسم کے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو رہی۔

اگرچہ اس اشتہاری مہم کو روک دیا گیا ہے لیکن سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر اب بھی ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شوبز سے جڑی شخصیات بھی اس معاملے پر اظہار خیال کر رہی ہیں۔

اداکارہ کونکنا سین شرما نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ مجھے تو یہ اشتہار بہت پسند ہے۔ آپ بھی اسے شیئر کریں۔

چیتن بھگت نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ 'تنیشق' ہم میں سے کچھ روزانہ ٹرولنگ کرتے رہتے ہیں، ہم ان سے نمٹتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ صحیح ہیں اور بطور کمپنی لوگوں کا آپ پر بھروسہ ہے تو ڈٹے رہیں۔

'غنڈوں کو ہندوستانی اتحاد، تخلیقی صلاحیتوں اور اظہارِ خیال کو پامال نہ کرنے دیں'۔

ایک اور صارف رادھا رمن داس نے لکھا ہے کہ یہ معافی نہیں بلکہ زیادہ توہین ہے کہ عملے اور اسٹورز کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اشتہار واپس لے لیا۔ نہیں 'تنیشق' ہم فسادی نہیں ہیں۔ ہندو آپ سے خریداری بند کر دیں گے تاکہ آپ دیوالیہ ہو جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG