رسائی کے لنکس

جماعت اسلامی کا خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ


جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق۔ فائل فوٹو
جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق۔ فائل فوٹو

جماعتِ اسلامی کے صوبائی امیر نے کہا کہ ہم اچھے طریقے سے حکومت سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ تاہم اگردوسری طرف سے الزامات لگائے گئے تو بھرپور دفاع کرینگے اور جواب بھی دینگے۔

جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینٹر مشتاق احمد خان نے المرکز اسلامی پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت نے خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت سے علیحدگی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی کابینہ 27اپریل کو بن جائیگی جبکہ2مئی کو ایم ایم اے اسلام آباد میں قومی ورکرز کنونشن بھی منعقد کریگی۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی حکومت سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ دو تین دن میں حکومت سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دینگے ۔ تاہم جماعت اسلامی صوبائی بجٹ پاس کرانے میں حکومت کا ساتھ دیگی لیکن حکومت میں نہیں بیٹھے گی۔ ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش کی صورت میں بھی جماعت اسلامی تحریک انصاف کیساتھ ہو گی اور حکومت کی مخالفت نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ہم اچھے طریقے سے حکومت سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ تاہم اگردوسری طرف سے الزامات لگائے گئے تو بھرپور دفاع کرینگے اور جواب بھی دینگے۔

ہم نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو تحریک انصاف کی درخواست پر مشروط طور پر جائن کیا تھا ۔حکومت سے علیحدگی پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مشاورت کر لی ہے اور ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر بیٹھ کر پریس کانفرنس میں شائستگی سے علیحدگی کا اعلان کریں گی۔ہم حکومت میں 14نکاتی ایجنڈے کیساتھ شامل ہوئے تھے جس میں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام،آئین پاکستان میں اسلامی تشخص کو قائم کرنے کیلئے دفعات کے عملی نفاز کی کوشش،خیبر پختونخوا میں کرپشن سے پاک اچھی طرز حکمرانی،قیام امن اور قبائلی علاقہ جات میں ڈرون حملوں کی بندش کیلئے کوشش،صوبے میں عوام کی صحت،تعلیم ،سماجی بہبود اور حقوق خواتین کیلئے بھر پور اقدامات،مہنگائی کو کنٹرول کرنے ،بیروزگاری کے خاتمے ،لوٹ مار اور کرپشن کی تحقیقات کیلئے بااختیار کمیشن جو وزیر اعلیٰ سمیت منتخب نمائندوں اور سرکاری افسران کا بلا امتیاز احتساب کرے،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے صوبائی سطح پر بجلی کی پیداوار،حکومت سازی میں جماعت اسلامی کی کابینہ میں مؤثر نمائندگی ،حکومت کے دوران مالیاتی فیصلوں،بجٹ سازی، اہم مناصب پر تعیناتی اور دیگر اہم فیصلوںمیں جماعت اسلامی کو اعتماد میں لینا ،ضمنی و بلدیاتی انتخابات ملکر لڑنے اور ضمنی انتخابات میں جماعت اسلامی کو خاطر خواہ نمائندگی دینااورعوام کو نچلی سطح پر بنیادی سہولیات دینے کیلئے بلدیاتی نظام میں فوری ترامیم شامل تھیں

انھوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں تخت پشاور کے حصول کیلئے اے این پی ،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دوڑ سے باہر ہو چکیں اور اصل مقابلہ ایم ایم اے اور تحریک انصاف کے درمیان ہو گا۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی پانچ سال تک حکومت میں رہی لیکن بینک آف خیبر، احتساب کمیشن ،قرضوں کے حصول سمیت دیگر کئی معاملات پر حکومت کیساتھ اختلافات بھی موجود رہے ۔

XS
SM
MD
LG