رسائی کے لنکس

امریکی وزیردفاع پانچ روزہ اہم غیر ملکی دورے پر


امریکہ وزیر دفاع جم میٹس (فائل)

عض مبصرین کا کہنا کے کہ اسلام آباد کے دورے کے دوران امریکی وزیر دفاع ایک بار پھر پاکستان قیادت زور دیں گے کہ وہ   افغانستان کے کے لیے خطرہ بننے والے بعض شدت پسندوں گروپوں کے خلاف کارروائی کریں جو مبینہ طور پاکستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس کا مشرق وسطیٰ، مغربی افریقہ اور جنوبی ایشیا کا پانچ روز دورہ شروع ہو گیا ہے جس میں وہ ان خطوں میں امریکی تعاون کے عزم کا اعادہ کریں گے۔

محکمہ دفاع سے جاری ایک بیان کے مطابق ہفتہ کو دورے کے پہلے مرحلے میں میٹس صدر عبدالفتاح السیسی سمیت اہم عہدیداروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

جمعہ کو دیر گئے اپنے ساتھ طیارے پر موجود صحافیوں سے گفتگو میں میٹس نے شام میں کرد جنگجوؤں کو مسلح کرنے سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا جس کا مقصد شام کے مسئلے کے سفارتی حل کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

"وائی پی جی" نامی شامی کرد گروپ داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کا اہم اتحادی رہا ہے۔

ترکی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس گروپ کو مزید اسلحہ نہ دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

انقرہ "وائی پی جی" کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اپنی ریاست کے خلاف کام کرنے والا تصور کرتا ہے۔

پینٹاگون سے جاری بیان کے مطابق اتوار کو میٹس اردن جائیں گے اور وہاں کے بادشاہ عبداللہ دوم کے ہمراہ مغربی افریقہ میں انتہا پسندی سے متعلق ایک کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔

اس کانفرنس میں فرانس، برطانیہ ، کئی افریقی ملکوں، یورپی یونین نیٹو اور اقوام متحدہ کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

چار دسمبر کو پاکستان کے دورے کے بعد منگل کو جم میٹس کویت جائیں گے جہاں وہ کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح سے ملاقات کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG