رسائی کے لنکس

جنرل قمر باجوہ اور امریکی وزیر دفاع کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ


(فائل فوٹو)

امریکی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان میں موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے عزم کو دہرایا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس کے درمیان جمعرات کو ٹیلی فون پر بات ہوئی، جس میں خطے میں امن و استحکام سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس کے درمیان ٹیلی فون پر 20 منٹ بات ہوئی۔

پاکستان فوج کے سربراہ نے جم میٹس کو وزارت دفاع کا منصب سنھبالنے پر مبارک باد دی۔ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ جم میٹس کا عملی تجربہ بھی خطے کے لیے اہم ثابت ہو گا۔

واضح رہے کہ جم میٹس افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران امریکی فورسز کے کمانڈر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق گفتگو میں خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ مقصد کے حصول کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے جاری رکھنے پر بھی آمادگی کا اظہار کیا۔

’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی قربانیوں کو سراہا۔

دفاعی اُمور کے تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل (رٹیائرڈ) طلعت مسعود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کو تعاون کی راہ اختیار کرنی چاہیئے۔

’’یہ اچھی بات ہے کہ جنرل باجوہ نے امریکی ڈیفنس سیکرٹری سے بات کی اور میں سمجھتا ہوں جنرل میٹس جو ہیں وہ (حالات کو) زیادہ سمجھتے ہیں اور ان سے جو بات ہوئی وہ بڑی مثبت ایک لحاظ سے رہی ہے ہم یہ سب توقع کرتے ہیں کہ بجائے اس کے الزام تراشی مسلسل رہے ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے اور ایک نیا باب جو ہے نئی انتظامیہ کے ساتھ کھل سکتا ہے جس میں تینوں فریق پاکستان امریکہ اور افغانستان اپنے اپنے مفادات کو (مدنظر رکھتے ہوئے) اس طریقے سے کی پالیسی بنائیں تاکہ دوسرے کو نقصان نا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک نیا باب شروع ہو سکتا ہے۔‘‘

دریں اثنا افغانستان میں ’ریزلیوٹ سپورٹ مشن‘ کے کمانڈر جنرل جان نکولسن نے امریکہ کی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے کہا کہ پاکستان کے ساتھ پیچیدہ تعلقات سے متعلق ایک مکمل جائزے کی ضرورت ہے۔

جنرل نکولسن نے کہا کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک اب بھی افغانستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اُن کے بقول اب بھی طالبان کی سینیئر قیادت کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔

پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی گئی ہے۔

امریکہ کے موقر اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق جمعرات کو جم میٹس اور پاکستانی فوج کے سربراہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں بات ہوئی، تاہم نا تو ’آئی ایس پی آر‘ اور نا ہی امریکی وزارت دفاع کے بیان میں اس بارے میں کچھ کہا گیا ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان میں موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے عزم کو دہرایا۔

پینٹاگان کے بیان کے مطابق ٹیلی فون پر جنرل قمر جاوید باجوہ اور جم مٹیس کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعاون کی اہمیت کے عزم کا اعادہ کرنے کے علاوہ خطے میں امن و استحکام اور انسداد دہشت گردی کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG