رسائی کے لنکس

logo-print

جرگہ اجلاس میں شمالی وزیرستان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا


فائل فوٹو

شمالی وزیرستان میں قیام امن، حالات کو معمول پر لانے اور 26 مئی کی فائرنگ کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز پشاور میں ہوا۔ جس میں شمالی وزیرستان کے سرکردہ قبائلی رہنماؤں نے شرکت کی اور علاقے میں حالات معمول پر لانے کے لیے تجاویز اور مشورے دیے۔

جرگے میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں کسی قسم کا کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تاہم حکام کہنا ہے کہ جرگہ میں موجود تمام شرکا نے 26 مئی کے سانحے اور اس سے پہلے کی صورت حال پر مفصل تبادلہ خیال کیا اور حالات کو سازگار بنانے کے لیے حکومت کو مختلف تجاویز پیش کیں۔

جرگہ اجلاس میں پشتون تحفظ تحریک کی جانب سے قبائلیوں کو درپیش انتظامی، سیکورٹی اور سیاسی مسائل کو اُجاگر کرنے اور مختلف سطح پر ان مسائل کو اُٹھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

جرگے میں شامل ایک قبائلی رہنما نے بتایا کہ جرگے میں شامل ممبران نے کور کمانڈر پشاور سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ بھی پیدا شدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے جب کہ پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین سے بھی رابطہ کر کے بات چیت کی جائے گی۔

پچھلے دو مہینوں سے بالخصوص 26 مئی کے سانحے کے بعد پشتون تحفظ تحریک سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کئی کمیٹیاں اور جرگے تشکیل دیے ہیں۔

ممبر قومی اسمبلی اور تحریک کے رہنما محسن داوڑ نے میران شاہ میں احتجاجی دھرنا جمعرات کے روز سے مقامی قبائلی رہنماؤں اور سول انتظامیہ کے افسران کے ایک مشترکہ جرگہ کی درخواست پر عیدالفطر تک ملتوی کر دیا تھا جب کہ سینیٹر بیرسٹر احمد علی سیف کی سربراہی میں قائم ایون بالا کی خصوصی کمیٹی نے تحریک کے مرکزی سربراہ منظور پشتین سے رابطہ کیا ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کے رہنما ثنا اعجاز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور مسائل حل کرنے کی بجائے اسے مزید پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پشتون تحفظ تحریک نے تمام مطالبات پر غور کرنے اور اس کے حل کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا اور ایوان بالا کی خصوصی کمیٹی کے ساتھ ان کی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

اُنہوں نے اجمل وزیر کی سربراہی میں تشکیل کردہ کمیٹی یا جرگے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے 26 مئی کی چھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء اور زخمیوں کے لیے معاوضے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس واقعے میں 13 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

خڑکمر واقعے کے خلاف پشاور میں پچھلے کئی دنوں سے پشتون تحفظ تحریک کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک نے نہ صرف احتجاج میں شرکت کی بلکہ شرکا سے خطاب بھی کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG