رسائی کے لنکس

'شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس دائر ہوسکتا ہے'


عدالت کا کہنا تھا کہ آئندہ مقدمے کی سماعت کے دوران وہ دلائل دیے جائیں جن کے بارے میں اس سے قبل بحث نہیں ہوئی ہے۔

پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ کے اب تک سامنے آنے والے حصوں میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اور اُن کے بچوں کا طرزِ زندگی معلوم ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسین اور حسن نواز سے اس بارے میں سوالات کیے گئے تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے اور اس بنا پر اُن کے خلاف قومی احتساب بیورو ’نیب‘ میں ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے۔

’جے آئی ٹی‘ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں قائم 'ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ' اور متحدہ عرب امارات کی 'کیپٹل ایف ای زیڈ' کمپنیوں کے علاوہ لندن میں قائم کمپنی 'فلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ' اور دیگر کی طرف سے رقوم، قرض اور تحائف کی بھاری ترسیل میں بے قاعدگی تھی۔

رپورٹ کے مطابق شریف خاندان نے برطانیہ میں قائم کمپنیوں کو نقصان میں ظاہر کیا لیکن اس کے باوجود یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ ان کمپنیوں کے ذریعے برطانیہ میں بیش قیمت جائیدادیں خریدی گئیں۔

اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بچوں کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ’جے آئی ٹی‘ نے پیر کو اپنی حتمی رپورٹ عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کی۔

دو بڑے ڈبوں میں بند دستاویزات جن پر ’’ایوڈینس‘‘ یعنی شواہد یا ثبوت درج تھا، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا اپنے ہمراہ گاڑیوں میں لائے تھے، جنہیں عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے' کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور ’جے آئی ٹی‘ کے سربراہ نے تین رکنی بینچ سے استدعا کی کہ جو رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے اُس کی جلد نمبر 10 عام نہ کی جائے، جس پر عدالت نے اسے جاری نہ کرنے کا حکم دیا۔

مقدمے کی سماعت 17 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے تین رکنی بینچ نے اپنے مختصر حکم نامے میں کہا ہے کہ فریقین مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کی نقل سپریم کورٹ رجسٹرار کے دفتر سے حاصل کر سکتے ہیں اور آئندہ پیشی پر اس سے متعلق سماعت ہو گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئندہ مقدمے کی سماعت کے دوران وہ دلائل دیے جائیں جن کے بارے میں اس سے قبل بحث نہیں ہوئی ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ممبران کی سکیورٹی

جسٹس اعجاز افضل، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل تین رکنی بینچ نے حکومت کو ہدایت کی کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے اراکین اور اُن کے اہل خانہ کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے اور اُن سے متعلق کوئی بھی انتظامی فیصلہ عدالت کے علم میں لائے بغیر نہ کیا جائے۔

ایس ای سی پی چیئرمین کے خلاف کارروائی کا حکم

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم سرکاری ادارے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ظفر حجازی کے خلاف ریکارڈ میں رد و بدل کرنے پر مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

تین رکنی بینچ نے متعلقہ اداروں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ معلوم کریں کہ سرکاری دستاویزات یا ریکارڈ میں ردوبدل ظفر حجازی نے خود کرایا یا کسی کے کہنے پرکیا۔

واضح رہے کہ ’ایس ای سی پی‘ وفاقی وزارت خزانہ کے تحت کام کرتا ہے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار وزیراعظم نواز شریف کے قریبی عزیز ہیں جو خود بھی 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

'جے آئی ٹی' نے موقف اختیار کیا تھا کہ اُنھیں 'ایس ای سی پی' کی طرف سے جو ریکارڈ فراہم کیا گیا، اُس میں ٹمپرنگ کی گئی تھی۔

جنگ گروپ کی خبروں پر اظہارِ برہمی

پیر کو سماعت کے موقع پر عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے متعلق ملک کے ایک بڑے نشریاتی ادارے ’جنگ گروپ‘ کے انگریزی اور اردو اخبارات ’دی نیوز اور جنگ‘ میں شائع ہونے والی خبروں پر ناراضی کا اظہار کرتے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، پبلشر جاوید الرحمٰن اور خبر دینے والے صحافی احمد نورانی کو توہین عدالت سے متعلق اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے سات روز میں جواب طلب کیا ہے۔

احمد نورانی نے خبر دی تھی کہ ’جے آئی ٹی‘ کے معاملات کو فوج کا انٹیلی جنس ادارہ ’آئی ایس آئی‘ دیکھ رہا ہے جب کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کے دوران وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے بارے میں بھی اُنھوں نے خبر دی تھی جب کہ ان خبروں کے بارے میں ردعمل جاننے کے لیے سپریم کورٹ سے رابطہ بھی کیا گیا تھا۔

'جے آئی ٹی' کے ممبران اور دفتر

سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں واقع فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں اپنا دفتر قائم کر کے دوماہ تک وہیں اپنا کام کیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا کی سربراہی میں قائم چھ رکنی ٹیم میں اسٹیٹ بینک، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، قومی احتساب بیورو (نیب) اور فوج کے دو انٹیلی جنس اداروں، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندے بھی شامل تھے۔

وزیراعظم اور دیگر افراد کی پیشی

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بیٹی مریم نواز کو ایک، ایک مرتبہ تفتیش کے لیے بلایا جب کہ وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز کو چھ بار اور اُن کے بھائی حسن نواز کو تین مرتبہ طلب کر اُن سے کئی گھنٹوں تک سوالات کیے گئے۔

اس کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعظم کے داماد کپٹین ریٹائرڈ صفدر، نواز شریف کے کزن طارق شفیع کو بھی بلایا گیا جب کہ اس علاوہ کئی دیگر عہدیداروں کو بھی تحقیقاتی عمل میں شامل کیا گیا۔

'جلد نمبر 10' کو بھی جاری کرنے کا مطالبہ

عدالتی کارروائی کے بعد سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے مطالبہ کیا کہ ’جے آئی ٹی‘ کی رپورٹ جلد نمبر 10 کو خفیہ نہ رکھا جائے۔

پیر کو سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’کیا چھپا ہوا ہے والیئم 10 میں، آپ پوری قوم کے لیے کیوں ایک بہت بڑا سوال چھوڑ کے جا رہے ہو۔‘‘

اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے اپنی پارٹی کی طرف سے فوری ردعمل میں کہا کہ ’’امید یہی ہے کہ تمام معاملات نمٹ گئے ہیں، نو جلدیں ہمیں مل جائیں گے‘‘ اور اُن کو پڑھنے کے بعد ہم مکمل گفتگو کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG