رسائی کے لنکس

logo-print

عراق سے فوجیوں کی واپسی پروگرام کے مطابق ہوگی: جو بائیڈن


اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایک اتحادی حکومت کے قیام میں عراقی سیاست دانوں کی ناکامی اور ملک میں جاری فرقہ وارا نہ تشدد کے باوجود وہ عراق سے اپنے فوجی نکالنے کے نظام الاوقات پر سختی سے قائم ہیں۔

ایسے میں جب کہ عراق سے امریکی لڑاکا فوجی نکالنے کے پروگرام کی تکمیل میں اوباما انتظامیہ کے پاس ایک مہینہ باقی رہ گیا ہے، نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ عراق اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہناتھا کہ عراقیوں کو امریکیوں کی مدد سے عراقی ہی سیکیورٹی فراہم کررہے ہیں۔ اب ہم وہاں اپنے 50 ہزار فوجی رکھیں گے۔ ہم وہاں سے اپنے 95 ہزار فوجی اپنے گھروں کو واپس لائیں گے۔ فوج میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو یہ سوچتا ہو کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم وہاں اپنے صرف 50 ہزار فوجی رکھنے کا عہد پورا کریں گے۔ اور اس سے کسی بھی طرح عراق کے استحکام کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے یہ باتیں اے بی سی ٹی وی کے پروگرام ’ دس ویک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

پچھلے ہفتے وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے عراقی سیاسی جماعتوں پر زور دیاتھا کہ وہ مارچ کے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے جاری سیاسی تعطل کے خاتمے اورایک اتحادی حکومت کے قیام میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔

نائب صدر جوبائیڈن نے اس توقع کا اظہار کیا ہے ایک اتحادی حکومت جلد ہی وجود میں آجائے گی اور انہوں نے کہا کہ عراقی فرقوں کے سیاسی اختلافات فرقہ وارانہ فسادات کے لیے سازگار ثابت ہورہے ہیں۔ کئی تجریہ کاروں کو خدشہ ہے کہ وہ صورت حال پھر سے عراق کا مقدر بن سکتی ہے جس سے وہ کئی برس پہلے گذر چکاہے۔

عراق میں مارچ کے انتخابات کے بعد سے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپنا عہدہ عراق میں جنگ ختم کرنے کاوعدہ کے ساتھ سنبھالا تھا اور 2008ء میں اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اسے ایک فہم سے عاری جنگ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وائٹ ہاؤ س میں آنے کے بعد سے مسٹر اوباما عراق کو ایک مستحکم اور جمہوری ملک کے طور پر قائم رکھنے کے فوائد پر گفتگو کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG