رسائی کے لنکس

انتخابی چندے کا غلط استعمال، سابق صدارتی امیدوار پر فردِ جرم عائد


انتخابی چندے کا غلط استعمال، سابق صدارتی امیدوار پر فردِ جرم عائد

ایک وفاقی جیوری نے سابق امریکی سینیٹر اور صدارتی امیدوار جان ایڈورڈٰز پر انتخابی مہم کے اخراجات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی فردِ جرم عائد کردی ہے۔

جمعہ کے روز جان ایڈورڈز کی آبائی ریاست نارتھ کیرولینا میں جاری مقدمے کی کاروائی کے دوران جیوری نے سابق سینیٹر پر عائد کردہ اس الزام کی توثیق کی کہ انہوں نے سیاسی حیثیت میں ملنے والے چندےایک خاتون سے ناجائز تعلقات چھپانے کے لیے استعمال کیے۔

مذکورہ مقدمے میں سابق سینیٹر پر چھ الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں ایک الزام سازش، چار الزامات انتخابی مہم کیلیے غیرقانونی چندوں کی وصولی اور ایک الزام غلط بیان بازی سے متعلق ہے۔

اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد کہ جان ایڈورڈز کے وکیل گریگوری کریگ جمعہ کے روز شمالی کیرولینا پہنچ رہے ہیں ذرائع ابلاغ میں جاری ان قیاس آرائیوں میں شدت آگئی تھی کہ وفاقی استغاثہ یا تو ان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے والا ہے یا پھر حکام سابق سینیٹر کو معاہدے کے تحت اعترافِ جرم کرنے پر آمادہ کرنے کیلیے ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

جان ایڈورڈز جنوب مشرقی امریکی ریاست میں مقیم ہیں اور یہیں سے 1998ء میں امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

مقدمے کی بنیاد وہ رقم ہے جو ایڈورڈز نے اپنی سابق ملازمہ ریل ہنٹر اور اپنے سابق معاون اینڈریو ینگ کو ادا کی تھی۔ ریل ہنٹر سے ایڈورڈز کی ایک بیٹی ہے جبکہ اینڈریو ینگ ماضی میں اس لڑکی کے باپ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔

ایڈورڈز کی جانب سے دی جانے والی یہ رقم 2008ء میں ان کی صدارتی انتخابی مہم کی حمایت کرنے والے دو اہم دولت مند افراد کی جانب سے ادا کی گئی تھی۔

استغاثہ کا موقف ہے کہ ایڈورڈز کو مذکورہ رقم انتخابی مہم کے چندہ کی حیثیت سے وصول ہوئی تھی اور اس کا استعمال انتخابات سے متعلق سرگرمیوں کیلیے ہی کیا جانا چاہیے تھا۔

تاہم سابق امریکی سینیٹر کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے کوئی قانون نہیں توڑا اور بطورِ تحفہ دی جانے والی اس رقم کا مقصد ان کے غیر ازدواجی تعلق کو ان کی اہلیہ ایلزبتھ کے علم میں لانے سے روکنا تھا۔

ایلزبتھ ایڈورڈز طویل عرصہ تک کینسر میں مبتلا رہنے کے بعد گزشتہ برس انتقال کرگئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG