رسائی کے لنکس

logo-print

صحافیوں کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ


پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے صحافیوں کا مظاہرہ

راولپنڈی اور اسلام آباد کے صحافیوں نے پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں حال ہی میں قتل ہونے والے تین صحافیوں اور ایک مقامی انگریزی اخبار کے نمائندے عمر چیمہ پر تشدد کی مذمت کی گئی۔

صحافیوں نے اپنے مقتول ساتھیوں مصری خان، اعجاز رئیسانی اور مالاکنڈ کے علاقے درگئی سے تعلق رکھنے والے مجیب اللہ کی ہلاکتوں پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافی برادری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، نیشنل پریس کلب کے عہدیداروں کےعلاوہ ٹی وی چینلوں، اخبارات، خبر رساں ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے ہاتھوں میں بینز اٹھا رکھے تھے جن پرمقتول صحافیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بارے میں مطالبات درج تھے۔

احتجاجی مظاہرے کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کے صحافی برادری دھمکیوں اور جبر سے نہیں گھبرائے گی اور ہر قیمت پر اپنے اظہار رائے کے حق کا تحفظ کرے گی۔

سما ٹی وی سے وابستہ اعجاز رئیسانی اس ماہ کے شروع میں کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے چند روز بعد مصری خان کو ہنگو میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جس کی ذمےداری مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے قبول کی۔

عمر چیمہ کو بھی نامعلوم افراد نے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ عدالتی حکم پر پولیس کی طرف اس واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

مظاہرے میں صحافیوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ جب تک ان کے ساتھیوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں پیر کو صحافیوں نے سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG