رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: ایک سال کے دوران صحافیوں کو کن مشکلات کا سامنا رہا؟


کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کا ایک سال مکمل ہونے پر جہاں وادی میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا رہا، وہیں صحافیوں کو بھی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کشمیر میں بھارتی حکومت کے ناقد صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی شکایات بھی عام رہیں جب کہ مواصلاتی پابندیوں اور انٹرنیٹ کی جزوی بندش سے اُن کے لیے صحافتی فرائض سرانجام دینا جوئے شیر لانے کے مترادف رہا۔

پانچ اگست 2019 کو بھارت کی حکومت نے جب آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کی تو یہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ ایک بڑی خبر تھی۔

صحافتی تنظیموں کے مطابق بھارتی حکومت کے اقدامات کی مخالفت کرنے والے کئی صحافیوں کے خلاف بغاوت کے مقدمے درج کر کے اُنہیں جیلوں میں ڈالا گیا اور اب بھی کئی صحافی جیلوں میں قید ہیں۔

البتہ بھارتی حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ وادی میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔

بھارت کی حکومت یہ بھی کہتی رہی ہے کہ وادی میں اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں اور نہ ہی صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جیلوں میں قید صحافیوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ میڈیا پر عائد پابندیوں کو ختم کرے اور آزادی اظہار رائے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ حکومتی اقدامات میڈیا سنسرشپ کے مترادف ہیں جو غیر جمہوری رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو کشمیری صحافیوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے اور پانچ اگست 2019 کے بعد حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق ایک دستاویزی فلم 'جموں و کشمیر میں پریس اور میڈیا کی آزادی' بھی جاری کی ہے۔ فلم کا دورانیہ 21 منٹ ہے۔

فلم مقامی صحافیوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ فلم میں صحافیوں نے کشمیر سے متعلق بھارت کے اقدامات کے بعد حکومتی اداروں بالخصوص پولیس کی طرف سے صحافیوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا تذکرہ کیا ہے۔

اس سے قبل منگل کو نیو یارک میں قائم تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے رواں سال اپریل میں تین مقامی صحافیوں کے خلاف پولیس کی طرف سے فوجداری مقدمات قائم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تنظیم نے 31 جولائی کو ایک مقامی ایڈیٹر قاضی شبلی کو دوبارہ گرفتار کرنے اور حکومت کی طرف سے ایک نئی میڈیا پالیسی وضع کرنے جیسے اقدامات کو پریس کی آزادی کے منافی قرار دیا تھا۔

تیز رفتار انٹرنیٹ کی بحالی کا مطالبہ

بدھ کو کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کا ایک سال مکمل ہونے پرصحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور جنوبی ایشیا میں صحافی تنظیموں کے اتحاد 'ساؤتھ ایشیا میڈیا سالیڈیریٹی نیٹ ورک' نے ایک مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر میں مواصلاتی بلیک آوٴٹ کی مذمت کی ہے۔

تنظیم نے تیز رفتار انٹرنیٹ پر مسلسل پابندی کے نتیجے میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سہولت کی فوری بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مواصلاتی بندش کی وجہ سے کئی میڈیا ہاؤسز بند ہو گئے۔ اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہو گئی۔ بے روزگاری بڑھی اور کئی صحافتی اداروں نے تنخواہوں میں کٹوتی بھی کر دی۔

'تین دہائیوں میں اٹھارہ صحافی مارے گئے'

وادی میں 31 سال سے جاری مسلح جدوجہد کے دوران اعداد و شمار کے مطابق اب تک 18 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ متعدد صحافیوں کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

صحافتی تنظیموں کے مطابق یہ صحافی مرضی کی خبر شائع نہ ہونے پر سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کا نشانہ بھی بنتے رہے۔

حالیہ برسوں میں صحافیوں اور اخبارات کو باربار انٹرنیٹ جیسی اہم اور ضروری سہولت سے محروم رکھا گیا۔ کرفیو کے نفاذ کے باوجود صحافیوں اور رپورٹرز کو کرفیو پاسز جاری کرنے سے انکار کیا گیا جس کی وجہ سے وہ کئی اہم واقعات کی کوریج سے محروم رہے۔

اگرچہ بعد میں فون اورانٹرنیٹ خدمات کو مرحلہ وار بحال کیا گیا اور اس سے قبل سرینگر میں میڈیا سہولت مرکز بھی قائم کیا گیا تاہم تیز رفتار 4 جی انٹرنیٹ سروسز ایک سال گزرنے کے باوجود معطل ہے۔

صحافیوں پر مقدمات

اس ایک برس کے دوران صحافیوں کو ہراساں کرنے، انہیں پولیس تھانوں یا پولیس افسران کے سامنے پیش ہوکر اپنی رپورٹس اور خبروں سے متعلق وضاحتیں پیش کرنے کے لیے طلب کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

صحافیوں پر یہ دباؤ بھی ڈالا جاتا رہا کہ وہ اپنی خبر کے ذرائع بتائیں جس سے انکار پر اُنہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہیں۔

رواں سال اپریل میں تین کشمیری صحافیوں گوہر گیلانی، پیرزادہ عاشق اور فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کے خلاف پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔

وادی میں نئی میڈیا پالیسی پر صحافیوں کے تحفظات

دو جون کو بھارتی حکومت نے ایک نئی میڈیا پالیسی متعارف کرائی جس میں اسے جعلی، غیر اخلاقی یا ملکی سلامتی کے خلاف خبروں کا جائزہ لینے اور قابل اعتراض خبر شائع کرنے والے صحافی یا صحافتی ادارے کے خلاف کارروائی کا بھی اختیار حاصل ہو گیا۔

'ہیومن رائٹس واچ' کا کہنا ہے کہ یہ میڈیا پالیسی مبہم اور حد سے تجاوز کرنے والی دفعات کا مجموعہ ہے جن کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

البتہ حکومتی عہدے داروں نے اس میڈیا پالیسی کا دفاع کیا ہے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہاں امن وامان اور سلامتی کے مسائل درپیش ہیں۔

اُنہوں نے الزام لگایا کہ وادی میں سرحد پار سے مداخلت ہوتی ہے جس کا مقصد وادی کا امن خراب کرنا ہے۔ لہذٰا ایسے ملک دُشمن عناصر کی بیخ کنی کے لیے اقدامات اُٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا۔

صحافیوں کا یہ بھی اعتراض ہے کہ فیک نیوز کا تعین کرنا کسی حکومتی عہدے دار یا پولیس کا کام نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کے ماہرین کا کام ہے۔

سرکردہ صحافی اور کشمیر یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری عنایت جہانگیر نے کہا کہ حکومت کو چاہیے وہ اس سلسلے میں مقتدر صحافیوں اور دوسرے متعلقہ افراد کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے بعد ہی اس بارے میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے اور تب تک نئی میڈیا پالیسی کو التوا میں رکھے۔

صحافیوں کو یہ بھی شکایات ہیں کہ لاک ڈاؤن اور نقل و حرکت محدود ہونے سے اُن کی خبر تک رسائی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ بعض صحافیوں کو یہ بھی گلہ ہے کہ حکام اُنہیں مستند اطلاعات دینے کے بجائے اپنی مرضی کی خبر دیتے ہیں۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ مشکلات کی وجہ سے اب عوام کے اُن پر اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچ رہی ہے۔

کشمیر سے متعلق بعض چینلز کی یک طرفہ رپورٹنگ سے وادی کے عوام نالاں ہیں اور حقائق سامنے نہ لانے پر صحافیوں کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

بھارتی حکومت کا ردعمل

جموں و کشمیر کے نئے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعے کو عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام اور میڈیا دونوں سے قریبی رابطے میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو مکمل آزادی حاصل رہے گی۔

جموں و کشمیر انتظامیہ کا موقف ہے کہ علاقے میں میڈیا کو اپنا کام کسی دھونس یا دباوٴ کے بغیر سرانجام دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

انتظامیہ کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انتظامیہ بالخصوص محکمہ اطلاعات پہلے ہی میڈیا کو ہر ضروری اور بہترین سہولیات فراہم کر رہا ہے جن میں اشتہارات کی مد میں سالانہ 36 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ جہاں تک نئی میڈیا پالیسی کا تعلق ہے اس کا مقصد میڈیا پر بےجا قدغنیں عائد کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد فیک نیوز کی روک تھام ہے۔ پالیسی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ عوامی اعتماد کو مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG