رسائی کے لنکس

خرطوم: روزنامہ ’الجریدہ‘ پر پابندی، صحافیوں کا احتجاج


اخبار کے سینئر ایڈیٹر، احمد الشیخ نے کہا ہے کہ اُن کا روزنامہ کسی سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں ہے؛ اور اِس بات پر اصرار کیا کہ اخبار کے نمائندوں کی صرف یہی کوشش رہتی ہے کہ شہریوں کو یہ بتائیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے

سوڈان میں اس ہفتے روزنامہ ’الجریدہ‘ کی تقسیم اور نیوزاسٹینڈ پر فروخت پر لگنے والی سرکاری پابندی کے خلاف صحافیوں نے جمعرات کے روز ملک کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آزادیِ صحافت اور آزادیِ اظہار کے اُن کے آئینی حق کی حرمت کو یقینی بنائے۔

اُنھوں نے خرطوم میں پریس اور پبلیکیشنز کے قومی ادارے (این سی پی پی) کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ حکومتِ سوڈان کا ایک ادارہ ہے جو صحافیوں کے لیے ضوابط وضع کرتا اور اُن پر عمل درآمد کراتا ہے، صحافیوں کو لائسنس جاری کرتا ہے، جن کے لیے حکومت طے کرتی ہے آیا وہ اِس کے اہل ہیں اور ملک میں کام کر سکتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم حقوقِ انسانی کی تنظیم، ’فریڈم ہاؤس‘ کا کہنا ہے کہ ’این سی پی پی‘ کے زیادہ تر ارکان کی نامزدگی صدر کرتا ہے۔

احمد الشیخ ’الجریدہ‘ کے سینئر ایڈیٹر ہیں۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ اُن کا روزنامہ کسی سیاسی ایجنڈے پر عمل نہیں کرتا اور اِس بات پر اصرار کیا کہ اخبار کے نمائندوں کی صرف یہی کوشش رہتی ہے کہ شہریوں کو یہ بتائیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔

الشیخ نے کہا کہ ’’الجریدہ غیر جانبدار اور صاف گو اخبار ہے جو کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتا۔ جب نوجوانوں کی تحریک نے شہری نافرمانی کی بات کی، تو ہم نے اُس کے خلاف کئی خبریں چھاپیں۔ حالانکہ حکومت ناراض ہے، ہم متعدد سرکاری اہل کاروں سے مل چکے ہیں۔ ہمیں سزا دی جا رہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی ادارے نے اخبار کے منتظمین کو احکامات جاری کیے کہ دو کالم نویسوں کو اُن کی تحریر اور کالم شائع پر بندش لگائی جائے۔

فیصل البغیر، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے صحافی گروپ کے رابطہ کار ہیں۔ اُن کے الفاظ میں، پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ سرکاری ادارے نے اخبار ضبط کیا ہو یا اخباری اداروں کو خبریں شائع کرنے سے روکا ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ نیوزاسٹنڈ تک پہنچنے سے پہلے ہی اخبارات کو ضبط کرنے سے میڈیا ہاؤسز پر مالی بوجھ پڑتا ہے، جب کہ اٹھنے والے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے۔

صرف اِسی ماہ، روزنامہ الجریدہ کو 11 بار خرطوم کے نیوزاسٹنڈ تک پہنچنے سے روکا گیا اور اُس کی کاپیاں ضبط کی جا چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG