رسائی کے لنکس

حکومت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے، سینیٹر لیفٹنینٹ جنرل (ر) عبد القیوم کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ’’اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘‘؛ اور یہ ’’پرانے دوستوں کے درمیان ہونے والی معمول کی ملاقات تھی‘‘

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی صنعت کار سجن جندل کے درمیان مری میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں میڈیا، عوامی اور سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے۔

پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں تجزیہ کاروں نے اس صورتحال پر بات کی۔ حکومت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے، سینیٹر لیفٹنینٹ جنرل (ر) عبد القیوم کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ’’اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘‘؛ اور یہ ’’پرانے دوستوں کے درمیان ہونے والی معمول کی ملاقات تھی‘‘۔

سینیٹر قیوم نے اس ملاقات کے تناظر میں ایسی پرانی ملاقاتوں کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے موجودہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بیک ڈور ڈپلومیسی کی بھی بات کی۔ ڈپلومیسی کے شعبے کی ماہر شمع جونیجو نے بھی اس امکان پر بات کی کہ اس ملاقات کو بیک ڈور ڈپلومیسی قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے دونوں ملکوں کی قیادت کسی مشترکہ دوست کو ذریعہ بنا سکتی ہے۔

شمع جونیجو نے کہا کہ بڑے بڑے معاہدوں کے پس پردہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کارفرما رہی ہے۔ ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ اگر اس ملاقات کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو پھر وزیر اعظم نے قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا، خاص طور پر جب انھیں ذاتی سظح پر کئی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ایسی قیاس آرایئوں کو مزید ہوا مل سکتی ہے، تو اس کا جواب دیتے ہوئے ممتاز مصنف اور تجزیہ کار رضا رومی کا کہنا تھا کہ اس کی ہینڈلنگ غلط تھی اور اس سلسلے میں زیادہ شفافیت کا مظاہرہ کیا جاتا تو پھر غالباً اتنے تحفظات سامنے نہیں آتے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں میڈیا اور حزب اختلاف ضرورت سے زیادہ ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

تفصیل سننے کے لیے، آڈیو رپورٹ پر کلک کیجیئے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG