رسائی کے لنکس

logo-print

انصاف کے نظام میں بنیادی تبدیلی لائے بغیر صورت حال بہتر نہیں ہوگی: تجزیہ کار


پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانیوں کی کیا نفسیاتی اور سماجی وجوہات ہیں اور ان سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں، وائس آف امریکہ کے پروگرام 'جہاں رنگ' میں دو ماہرین، سندھ یونورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد برفت اور سرگودھا یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر میاں یاسین نے اپنے خیالات پیش کیے۔

ڈاکٹر برفت نے کہا کہ ''پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا کوئی اثر نہیں رہا۔ یہاں جتنے بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ حکمرانوں یا مقتدر حلقوں کے اپنے مفاد میں ہوتے ہیں۔ اس سے، عام آدمی میں یہ نفسیاتی رجحان پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی سطح پر اپنے مفاد میں جو چاہے کر لے۔ بچ نکلنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ تلاش کرلے گا''۔

انکا کہنا تھا کہ ''جس ملک میں سزا کا موثر نظام نہ ہو۔ سزا اور جزاء Selectiveہوں وہاں بد عنوانی کے خلاف کوئی کامیابی اسوقت تک مشکوک ہو جاتی ہے جب تک کہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی جائیں''۔

انہوں نے کہا کہ ''پاکستان میں کبھی اقدار ہوتی تھیں جو Globalization کی وجہ سے ختم ہونے لگیں تو انکی جگہ قانون کو لینی چاہئے تھی جو نہ ہوسکا اور اس کام کے ذمہ دار اس کام کو انجام نہ دے سکے اور نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کی نفسیات بدلتی چلی گئی اور جرم کا رجحان بڑھنے لگا اور Selectivity کی وجہ سے وہ لوگ بھی جو مقتدر حلقوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے سمجھنے لگے کہ قانون شکنی بڑے آدمیوں کا کام ہے. اسلئے وہ نفسیاتی طور پر بڑا آدمی بننے کے شوق اور کوشش میں اسی راستے پر چل پڑے''۔

بحیثیت قوم، نفسیاتی طور پر قلب ماہیت کے عمل کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ لوگوں کو بتایا جائے اور سمجھایا جائے کہ قانون انکی اپنی حفاظت اور بہتری کے لئے ہے۔ اگر وہ قانون پر عمل نہیں کریں گے تو انکا اور انکے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں رہے گا۔

ڈاکٹر میاں محمد یاسین کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اخلاقی انحطاط آیا ہے اور اس میں ان تمام اداروں کا قصور ہے، جنکی ذمہ داری معاشرے کو بدعنوانیوں سے پاک معاشرہ بنانا تھا۔ لیکن، وہ اسپر توجہ نہیں دے سکے۔

انہوں کہا کہ ''اس کے محرکات میں یہ نفسیات کارفرما ہے کہ ہر انسان ایک آسودہ زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اگر اسے قانون کی گرفت اور سزا کا خوف نہ ہو تو اس مقصد کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے''۔

ڈاکٹر یاسین نے کہا کہ ان مسائل کا حل یہ ہے کہ اداروں کو طاقتور بنایا جائے کہ وہ ہر سطح پر محاسبہ کرسکیں۔ دوسرے، نظام تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں کرکے مائنڈ سیٹ تبدیل کیا جائے اور ظاہر ہے اس میں وقت لگے گا۔

تفصیل آڈیو رپورٹ میں سنئے:

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:15 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG