رسائی کے لنکس

سکریٹری جنرل کا کشمیر کے معاملے پر مصالحتی کردار ادا کرنے کا بیان

  • نفیسہ ہودبھائی

فائل

وائس آف امریکہ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر، کرنل فاروق نے اِس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے تنازع کو سلجھانے پر تیار ہیں

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، اینٹونیو گئیٹریز نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ’’مصالحتی کردار ادا کرنے پر تیار ہیں‘‘۔اُنھوں نے یہ بات چند روز قبل اخباری کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہی ہے۔

جمعرات کے روز وائس آف امریکہ نے اپنے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں اِسی عنوان پر گفتگو کی۔

اس میں شرکت کرتے ہوئے، پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر، کرنل فاروق نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ سے حال ہی میں اُس وقت رجوع کیا جب بھارت نے کلبھوشن کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا۔

اُنھوں نے اس بات کو ’’خوش آئند‘‘ قرار دیا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے تنازع کو ’’سلجھانے کے لیے تیار ہیں‘‘۔

لیکن، اُن کے بقول، ’’بھارت کا کشمیر پر بات کرنے سے انکار مسئلے کے تصفیے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے‘‘۔

دوسری جانب، بھارت کے سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار، قمر آغا نے کہا ہے کہ بھارت نے جب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے بات کی تو اُن کو پاکستان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے کردار کے بارے میں یاد دلایا جائے گا۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’’پاکستان ابھی تک دہشت گردی کے تربیتی مراکز چلاتا ہے، جس کی وجہ سے آئے دِن جھڑپیں ہوتی ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارت پاکستان سے شملہ معاہدے کے تحت بات کرنے پر تیار ہے۔ لیکن، بقول اُن کے، ’’شرط صرف یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنا چھوڑ دے‘‘۔

تفصیل کے لیے، منسلک آڈیو رپورٹ سنئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG