رسائی کے لنکس

’سیاسی ڈپلومیسی کی جگہ معاشی سفارتکاری پر زور دیا جائے‘


وائس آف امریکہ کے پروگرام، جہاں رنگ میں بات کرتے ہوئے، مسلم لیگ (ن) کے رہنما, ظفر علی شاہ شاہ کا کہنا ہے کہ ’اکنامک ڈپلومیسی‘ ہو یا ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ ان کی رائے میں بھارت کو اپنی فوج کشمیر سے نکال لینی چاہئے، تاکہ آبادی کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے

کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک حساس معاملہ رہا ہے ۔بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے ایک ترجمان اور سابق سفارتکار میم افضل نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں اس مسئلے پر بھی بات کی۔ پروگرام جہاں رنگ میں میزبان بہجت جیلانی کے ساتھ بات کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے اس مسئلے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

میم افضل کہتے ہیں آج کے دور میں پولیٹیکل ڈپلومیسی کے ساتھ ساتھ اکنامک ڈپلومیسی بہت اہم ہے ۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اکنامک ڈپلومیسی سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ ہو سکتا ہے اسلئے اگر سیاستدان پولیٹیکل ڈپلومیسی کے لیول کو کم کریں تو پھر اچھی فضا قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان میں برسر اقتدار مسلم لیگ (ن) کے رہنما, ظفر علی شاہ شاہ کا کہنا ہے کہ ’اکنامک ڈپلومیسی‘ ہو یا ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ ان کی رائے میں بھارت کو اپنی فوج کشمیر سے نکال لینی چاہئے، تاکہ آبادی کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے۔

بھارتی تجزیہ کار ڈاکٹر منیش کمار کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کی ہر سیاسی پارٹی کشمیر کے بارے میں ایک ہی موقف رکھتی ہے تاہم ایک صحافی کی حیثیت سے وہ سمجھتے ہیں کی کشمیر کے مسائل کو حل کرنے کے لئے قیادت کو کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اور امریکہ میں مقیم تجزیہ کار، احتشام نظامی کہتے ہیں کہ بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے دہشت گردی کے معاملے کو سامنے لاتا ہے۔

تفصیلی رپورٹ کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ پر کلک کیجیئے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG