رسائی کے لنکس

logo-print

شیڈول کے مطابق، اسی سال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کرائے جائیں: تجزیہ کار


پاکستان کے حقوق انسانی کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں شیڈول کے مطابق اسی سال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کرائے جائیں۔ ادھر، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کہا ہے کہ ’’ملک غیر شفاف انتخابات کی جانب جا رہا ہے۔ لیکن، ایسے انتخابات کے نتائج کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا‘‘۔

پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں میزبان قمر عباس جعفری نے حقوق انسانی پاکستان کے سربراہ سرور باری سے گفتگو کی۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، حقوق انسانی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کوئی بہت قابل فخر نہیں ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ان میں ایک یا ایک سے زیادہ پارٹیوں کو شکایت رہی کہ انتخاب میں انکے ساتھ زیادتی ہوئی‘‘۔

انہوں کہا کہ ’’دوسرا مسئلہ مذہبی جماعتوں کا ہے، جن کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی بھی عوام کی جانب سے پذیرائی حاصل نہیں رہی۔ لیکن، اسٹبلشمنٹ نے انکی پشت پر اپنا ہاتھ رکھا اور جب ’ایم ایم اے‘ بنی تو مشرف دور میں انکے لئے سابق صوبہٴ سرحد، اور موجودہ ’کے پی‘ میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا بندوبست کیا گیا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ماضی کی تاریخ اور موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام فریقوں کو انتخاب میں مساوی مواقع ملیں اور کسی کو شکایت نہ ہونے پائے۔‘‘

سرور باری نے ڈاکٹر مہدی حسن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سابق وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے مل کر الیکشن کمیشن کی تشکیل کی تھی۔ اب اگر وہ اپنے ہی مقرر کردہ لوگوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں تو یہ الگ بات ہے۔اور یہ انکا جماعتی بنیادوں پر ایک سیاسی مؤقف سے زیادہ کچھ نہیں ہے‘‘۔

سرور باری نے مزید کہا کہ ’’نہ صرف الیکشن کمیشن کے ارکان انکے منتخب کردہ ہیں، بلکہ پنجاب میں انکے بھائی کی حکومت ہے اور مرکز میں انکا نامزد کردہ وزیر اعظم اور حزب اختلاف کے ساتھ مل کر یہی لوگ حکومت بنائیں گے تو ان کے خدشات بالکل بے بنیاد اور سیاسی محرکات کی بنا پر ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG