رسائی کے لنکس

انتخابات شفاف ہوتے نظر نہیں آ رہے: نواز شریف


نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آرہے ہیں (فائل فوٹو)

نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ اس وقت چیف جسٹس عمران خان اور آصف زرداری کی زبان بول رہے ہیں۔ چیف جسٹس کے منہ سے وہی بات نکلتی ہے جو عمران خان اور آصف زرداری کرتے ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک غیر شفاف انتخابات کی طرف جارہا ہے لیکن ایسے انتخابات کے نتائج کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔

پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ انتخابات میں سب کے لیے یکساں مواقع ہونے چاہئیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو بند گلی میں دھکیلا جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ پری پول دھاندلی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو دبایا جائے اور کسی کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔

نوازشریف نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ پنجاب کی کارکردگی اچھی نہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے سوال کیا کہ آپ بتائیں کہ کس صوبے کی کارکردگی اچھی ہے؟ عام شخص بھی کہے گا کہ پنجاب کی کارکردگی سب سے بہتر ہے۔

سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا وہ کسی قسم کے جوڈیشل مارشل لا پریقین نہیں رکھتے لیکن مجھے پارٹی صدارت سے ہٹانا اور سینیٹرز کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک چیف جسٹس کی باتوں کی نفی ہے۔

نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ اس وقت چیف جسٹس عمران خان اور آصف زرداری کی زبان بول رہے ہیں۔ چیف جسٹس کے منہ سے وہی بات نکلتی ہے جو عمران خان اور آصف زرداری کرتے ہیں۔

اس سے قبل کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدالت کی کارروائی براہِ راست نشر کرنے کی درخواست کے متعلق وہ اپنے وکلا سے مشاورت کریں گے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کا جواز نہیں ہے لیکن بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار سال سے ترقی کی رفتار تیز رہی ہے لیکن پاناما کیس کے فیصلے کی وجہ سے ترقی کرتا پاکستان تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ روپے کی قیمت نیچے گر گئی ہے جس کی وجہ ان کے بقول غیر یقینی صورتِ حال ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی سربراہی میں شریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت پیر کو بھی جاری رہی۔

سماعت کے موقع پر استغاثہ کے گواہ واجد ضیا پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جرح جاری رہی۔

جرح کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ خواجہ حارث گواہ سے غیر ضروری سوالات پوچھ رہے ہیں جب کہ ملازمت سے متعلق ملزم نواز شریف خود تسلیم کرچکے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کیا وکیل ملازمت کی دستاویز ماننے سے انکار کرتے ہیں؟ آپ کہیں کہ ملزم نے ملازمت نہیں کی۔ خواجہ حارث غیر ضروری سوالات سے اجتناب کریں اور اگر وکیل صفائی کے پاس کوئی سوال نہیں تو جرح ختم کردیں۔

اس اعتراض پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ مطلب کی بات تک پہنچنے کے لیے کئی سوالات کرنا پڑتے ہیں۔ جتنی 'سورس' دستاویزات پیش کی گئی ہیں ان پر سوال کرنا وکیلِ صفائی کا حق ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG