رسائی کے لنکس

ریاض کانفرنس اور دہشت گردی کے خلاف نئی حکمتِ عملی

  • قمرعباس جعفری

پروگرام جہاں رنگ میں شرکت کرتے ہوئے، سعودی صحافی ڈاکٹر المائنا نے کہا ہے کہ ریاض کانفرنس کا دائرہ کار اس لحاظ سے محدود رہا کہ کئی اسلامی ممالک اس میں شریک ہی نہیں ہوئے

اتوار کو اپنے پہلے بیرونی دورے میں صدر ٹرمپ نے سعودی دارلحکومت ریاض میں مسلمان سربراہانِ مملکت کی علاقائی کانفرنس سے خطاب کیا۔ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اس کانفرس کا خاص موضوع تھا۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں، ممتاز سعودی صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر خالد المائنا، سعودی عرب میں مقیم پاکستانی صحافی امیر محمد خان اور پاکستان کے 'سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ کنٹمپریری ریسرچ'، سلمان جاوید نے گفتگو میں حصہ لیا۔

ڈاکٹر المائنا نے کہا ہے کہ ریاض کانفرنس کا دائرہ کار اس لحاظ سے محدود رہا کہ کئی اسلامی ممالک اس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ اس وقت سعودی عرب اور ایران کے درمیان وہ جسے بعض مبصرین در پردہ لڑائی کہتے ہیں، وہ دہشت گردی کے خلاف اس نئی حکمت عملی پر کس طرح اثرانداز ہوگی۔ اُن کا جواب سننے کے لیے، منسلک آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG