رسائی کے لنکس

فضائی مدد سے عراق و شام میں لڑائی فیصلہ کُن نہیں ہوگی: تجزیہ کار


فائل
فائل

سفیر مشتاق مہر نے اردو سروس کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں شرکت کرتے ہوئے، میزبان اسد احمد کو بتایا کہ، بقول اُن کے، ’داعش بعض مقامات پر شکست سے دوچار ہوئی ہے، تو بعض مقامات پر اُنھیں کامیابی بھی مل سکتی ہے، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا‘

مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے ایک سابق سفیر نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی فضائی مدد سے عراق اور شام میں موجودہ جنگ فیصلہ کُن ثابت نہیں ہوگی۔

سفیر مشتاق مہر نے اردو سروس کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں شرکت کرتے ہوئے، میزبان اسد احمد کو بتایا کہ، بقول اُن کے، ’داعش بعض مقامات پر شکست سے دوچار ہوئی ہے، تو بعض مقامات پر اُنھیں کامیابی بھی مل سکتی ہے، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا‘۔

یاد رہے کہ کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے امریکہ کی فضائی مدد سے سنجار کے شمالی عراقی شہر کو داعش سے واپس لے لیا ہے۔

عراقی کرد صدر مسعود بارزانی نے جمعے کے دِن اعلان کیا کہ کرد لڑاکا افواج نے داعش سے سنجار کو چھین لیا ہے، جس نے سال بھر سے اس عراقی شہر پر قبضہ کیا ہوا تھا۔

شام کے بحران کے حوالے سے سفیر مشتاق مہر کہتے ہیں کہ ویانا مذاکرات اس سلسلے میں اہم ہیں اور بظاہر ایران کی سرگرم دلچسپی اہمیت کی حامل ہے۔

اُن کا خیال ہے کہ ایران، روس اور امریکہ کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کرے گا کہ شام کے اندر اسد کے بغیر سیاسی حل ممکن ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس بات کی یقین دہانی ہو کہ شام کو شیعہ، سنی اور علوی آبادی کی بنیاد پر تین حصوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔

تجزیہ کار عارف انصار نے اس مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات اہم ہوگی کہ ویانا مذاکرات میں شام کے بارے میں روس، یورپی یونین، سعودی عرب اور ایران سمیت متعلقہ فریقین کے درمیان کیا اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے۔

اسی پروگرام میں ایک پاکستانی تجزیہ کار ریٹائرڈ کرنل محمد علی احسان نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف آف اسٹاف، جنرل راحیل شریف کے امریکہ کے دورے میں بھی علاقے میں داعش کے خطرات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG