رسائی کے لنکس

داعش کے خلاف امریکی کارروائی، تجزیہ کاروں کا ملا جلا ردِ عمل

  • بہجت جیلانی

ننگرہار (فائل)

افغان تجزیہ کار سمیع یوسف زئی نے کہا ہے کہ ’’اگر داعش کا خاتمہ کرنا ہے تو افغان فوج کو امریکی فوج کی مدد سے داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے ان مقامات پر دوبارہ قبضہ کرنا ہوگا، کیونکہ اس نوعیت کی کارروائیوں کے مؤثر ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی‘‘

امریکہ کی طرف سے افغانستان کے صوبہٴ ننگرہار میں داعش کے ٹھکانوں پر سب سے بڑے غیر جوہری بم گرانے کی کارروائی پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں افغان۔امریکی اور پاکستانی تجزیہ کاروں نے جمعے کے روز اپنی رائے کا اظہار کیا۔

افغان تجزیہ کار سمیع یوسف زئی نے کہا ہے کہ ’’اگر داعش کا خاتمہ کرنا ہے تو افغان فوج کو امریکی فوج کی مدد سے داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے ان مقامات پر دوبارہ قبضہ کرنا ہوگا، کیونکہ اس نوعیت کی کارروائیوں کے مؤثر ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی‘‘۔

امریکی تجزیہ کار ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا ہے کہ ’’داعش نے اب عسکریت پسند گروپ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نظرئے کی صورت اختیار کر لی ہے، جسے لڑائی اور ہتھیاروں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ اور اگر، اس کارروائی کا مقصد شمالی کوریا کو پیغام دینا تھا تو بھی شمالی کوریا کا غیر محتاط رویہ دیکھتے ہوئے مطلوبہ نتائج کے حصول کی ضمانت نہیں دی جا سکتی‘‘۔

پاکستانی تجزیہ کار سلطان حالی نے اس بمباری کا موازنہ تورہ بورہ میں کی جانے والی کارروائی سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں شدید کارروائی کے باوجود اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھی عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے اور طویل عرصے تک مسائل پیدا کرتے رہے‘‘۔

اُن کے مطابق، ’’اب انتطار کرنا ہوگا جس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جا سکے گا آیا اس کارروائی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے‘‘۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG