رسائی کے لنکس

مشرف کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، اٹارنی جنرل


پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان۔ فائل فوٹو

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر گزشتہ روز دیے جانے والے فیصلے کے بارے میں پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے پر خاموشی اختیار نہیں کرے گی۔ اس کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے متعدد آپشنز ہیں جن میں نظر ثانی کی اپیل اور آرمی ایکٹ میں ترمیم شامل ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی حکومت کے پاس اور طریقے موجود ہیں جن پر وہ اس وقت بات نہیں کرنا چاہیں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ وہ ایکٹ میں ترمیم کس طرح کر سکتے ہیں جبکہ ان کے پاس سینٹ میں اکثریت نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں ایکٹ میں ترمیم کی تجویز لا سکتے ہیں۔

سابق صدر اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ ان کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا۔ حکومت اپیل تو نہیں کر سکتی لیکن اگر انہوں نے اپیل کی تو حکومت ان کی واضح حمایت کرے گی۔

انہی دونو ں موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے عدالت عالیہ کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین نے کہا کہ جہاں تک موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا تعلق ہے یہ حکومت کے لیے کوئی زیادہ پریشانی کا معاملہ نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس نہ صرف ریویو میں جانے کا آپشن موجود ہے بلکہ وہ آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کر سکتے ہیں جس کے لیے محض سادہ اکثریت درکار ہو گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم موجودہ حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لئے وہ مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔

سابق صدر جنرل مشرف کی سزا کے خصوصی عدالت کے فیصلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس وجیہ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:06:32 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG