رسائی کے لنکس

logo-print

جسٹس مشیر عالم ، جوڈیشل کمشن کے رکن مقرر


جسٹس مشیر عالم، فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے جسٹس شیخ عظمت سعید کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئی جوڈیشل کونسل کی تشکیل کی ہے، جس میں سینئر جج جسٹس مشیر عالم اب سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے ممبر بن گئے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم، جسٹس فائز عیسیٰ ججز تقرری جوڈیشل کمشن کے ممبر بھی بن گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق جسٹس شیخ عطمت سعید کی ریٹائرمنٹ کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے مختلف کمشنز میں تبدیلیاں آئی ہیں اور اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرریوں کی سفارش کرنے والے کمشن، ججز تقرری جوڈیشل کمشن میں سنیارٹی کی بنیاد پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ججز تقرری جوڈیشل کمیشن کے رکن بن گئے ہیں۔ جب کہ سپریم جوڈیشل کونسل، جو ججز کے خلاف الزامات کا جائزہ اور کاروائی کرنے کی مجاز ہے، اس میں جسٹس مشیر عالم کو نیا رکن نامزد کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں ان کی حمایت میں سامنے آ گئی ہے اور بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کونسل میں زیر سماعت کاروائی کو کالعدم قرار دیا جائے اور سپریم جوڈیشل کونسل کو مزید کاروائی سے روکا جائے۔

آئینی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی انکوائری کے طریقہ کار میں ترمیم کی جائے۔ جھوٹا اور بے بنیاد ریفرنس دائر کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا حکم دیا جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس قانونی نگاہ سے بدنیتی پر مبنی ہے۔

درخواست میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا حکومتی اداروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز یا ان کے خاندان کے خلاف معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں؟ کیا اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا چیئرمین خفیہ حاصل کی گئی معلومات دوسرے اداروں کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے؟ اگر خاندان کا کوئی فرد جائیداد ظاہر نہ کرے تو کیا خاندان کے دوسرے افراد کی جائیداد بھی بےنامی دار شمار ہو گی؟

آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ قاضی فائز عیسی نے دیا اور اس فیصلے میں حساس اداروں کو حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا کہا گیا۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں نے ان پر تنقید شروع کر دی۔ نظرثانی درخواستیں دائر کی گئیں اور ان میں قاضی فائز عیسی کے خلاف سخت زبان استعمال ہوئی، جو بعد میں واپس لی گئی، ان درخواستوں سے قاضی فائز عیسی کے خلاف حکومت کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔ صدارتی ریفرنس عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

سندھ بار ایسویسی ایشن کی یہ درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی مزید پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے بھی اپنے خلاف دائر ریفرنس سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور دو روز قبل انہوں نے عدالت عظمیٰ سے اس کیس کو فل کورٹ میں چلانے کی استدعا کی تھی۔

پس منظر

سپریم کورٹ میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے اسلام آباد کے ایک غیر معروف صحافی کی درخواست پر جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا جس میں ان پر اہلیہ اور بچوں کے نام بیرون ملک جائیداد اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم، جسٹس فائز عیسیٰ نے الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ ان کے زیر کفالت نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس ریفرنس کی باقاعدہ سماعت سے قبل صدر عارف علوی کو دو خطوط بھی تحریر کیے جن میں اس ریفرنس کی بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ بیرون ملک جائیداد ان کے بچوں اور اہلیہ کی ہے جو ان کے زیرکفالت نہیں ہیں۔ لہذا اسے اثاثوں میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اپنے خط میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اس حوالے سے قائم کیا جانے والا ریفرنس خارج کر دیا ہے، جب کہ اثاثہ جات سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہو رہی ہے۔ لیکن، جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کی ہے کہ اس ریفرنس اور ان پر عائد الزامات کو کھلی عدالت میں سنا جائے اور اب انہوں نے نئی پٹیشن کو فل کورٹ میں سننے کی استدعا کی ہے جس پر ابھی تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG