رسائی کے لنکس

'لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ سے کیس ہتھیایا'


جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ کے مطابق حکومت نے جنرل مشرف کے وکیل سے بھی بڑھ کر اس کیس کی پیروی کی۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی اعلیٰ عدالت کے سابق جج جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ سنگین غداری کیس کی خصوصی عدالت سے متعلق کیس لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ اس نے سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی ہے، کیونکہ خصوصی عدالت سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی تھی۔ حکومت پاکستان اس کیس کی مدعی تھی، وہ اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد اس کے خلاف کسی عدالت میں کیسے جا سکتی ہے؟

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وائس آف امریکہ کے ساتھ فیس بک لائیو انٹرویو کے دوران کیا۔

جسٹس وجیہہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی کوئى نظیر نہیں ملتی۔ اس نے سپریم کورٹ سے کیس سے ہتھیایا ہے۔ اعلیٰ عدالتیں اس طرح کام نہیں کرتی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ان کے بقول، " سنگین غداری کیس میں جنرل مشرف کے پاس اپیل کا آپشن تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے غیر ضروری عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔"

انہوں نے کہا کہ عام طور پر خصوصی عدالتیں آئین کے آرٹیکل چھ اور اس کے ماتحت رولز پر بنائى جاتی ہیں۔ حکومت نے جنرل مشرف کے وکیل سے بھی بڑھ کر اس کیس کی پیروی کی۔

جسٹس (ر) وجیہہ نے کہا کہ حکومت کے وکیل نے کمزور دلیل دی کہ جنرل مشرف کے خلاف کیس صرف سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صوابدید پر بنایا گیا اور کابینہ اجلاس میں ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم کی اجازت سے کوئى بھی مسئلہ زیر غور آسکتا ہے۔ اگر یہ کیس ایجنڈے کا حصہ نہیں بھی تھا لیکن زیر غور آیا تو یہ کافی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر دائرہ اختیار سے متعلق کسی ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے چھ ماہ کا عرصہ ہوتا ہے۔ لیکن، اس کیس میں چھ سال سے کارروائی تاخیر کا شکار تھی۔ جنرل مشرف کو اب کیوں ہوش آیا؟ اور وہ بھی اس وقت جب استغاثہ کے سارے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے۔ چاہے وہ ان کی موجودگی میں قلم بند کیے گئے ہوں یا ان کے وکیل کی موجودگی میں۔ جب ان کے بیان کے باری آئى تو انہوں نے بیان ریکارڈ کرانے سے اتفاق نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ جنرل مشرف کا ایمرجنسی سے متعلق کیس آرٹیکل چھ کے زمرے میں نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تو اٹھارویں ترمیم کے ماتحت ترمیمی ورژن میں آتا ہے۔

جسٹس وجیہہ الدین نے بتایا کہ 2007 میں صدارتی انتخاب کو چیلنج کیا گیا اور جنرل مشرف کو محسوس ہوا کہ فیصلہ ان کے خلاف آنے والا ہے تو انہوں نے ایمرجنسی لگادی اور جج صاحبان کو گھروں پر نظر بند کر دیا۔ اس سے بڑھ کر آئین سے غداری کیا ہوگی۔ آئین میں ایمر جنسی لگانے کی گنجائش ہے لیکن اس کے لیے قومی اسمبلی اور صوبائى اسمبلیوں سے رجوع کیا جاتا ہے۔ فرد واحد یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔

جسٹس وجیہہ کے مطابق، جنرل مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ اس وقت تک درست تسلیم کیا جائے گا جب تک سپریم کورٹ خود اپنی ہی بنائى ہوئى خصوصی عدالت کے فیصلے کو تبدیل نہیں کردیتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG