رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: داعش کا خودکش حملہ، 80 افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی


داعش کے شدت پسند گروپ نے ہفتے کو کابل میں نکلنے والی احتجاجی ریلی کے دوران کیے گئے بم حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور 231 زخمی ہوئے ہیں۔
افغان وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تین خودکش حملہ آوروں نے ایک پُرامن مظاہرے پر حملہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد کو بھک سے اڑا دیا، ایک نے غلطی سے محض اپنی جان لی جب کہ تیسرے کو ریلی کے تحفظ پر مامور سکیورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کیا۔

داعش کے دہشت گرد گروپ سے واسطہ رکھنے والی ایک ویب سائٹ نے تشدد کی اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کا مقصد افغانستان کی ہزارہ نسلی برادری کو متنبہ کرنا ہے، جو زیادہ تر اہل تشیع سے تعلق رکھتے ہیں، کہ وہ حکومتِ شام کا ساتھ دینا بند کریں، جو اِس دہشت گرد گروپ کے خلاف صف آرا ہے۔

حقوقِ انسانی کے گروہوں اور تجزیہ کاروں نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں مقیم 30 لاکھ افغان مہاجرین میں سے، پوشیدہ طور پر، افراد کو بھرتی کر رہا ہے اور تربیت فراہم کر رہا ہے، تاکہ اُنھیں سرکاری افواج کے ہمراہ شام کی لڑائی میں جھونکا جا سکے۔

سخت سکیورٹی کے باوجود حملہ نہ روکا جا سکا

صدر اشرف غنی نے تشدد کی اِس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’دہشت گردوں اور موقع پرستوں‘‘ کی کارستانی قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے مظاہرین کو حکومت نے سکیورٹی فراہم کرنے کے اقدامات کر رکھے تھے۔

اُن کے الفاظ میں ’’تاہم، دہشت گرد احتجاجی ریلی میں داخل ہوئے اور دھماکے کیے جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید و زخمی ہوئے، جن میں سکیورٹی اور دفاعی افواج کے ارکان بھی شامل ہیں‘‘۔

بعدازاں، صدارتی محل میں ہزارہ رہنماؤں پر مشتمل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، غنی نے حملے کی تفتیش کے احکامات جاری کیے اور اعلان کیا کہ اتوار کو ’یومِ قومی سوگ‘ کے طور پر منایا جائے گا، جس میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے لیے مساجد میں خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔

ادھر، صدر غنی کے ترجمان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ یہ حملہ اس بات کی مثال ہے کہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے مسلح گروپ کس طرح کے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

داعش کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کا مقصد افغانستان کی ہزارہ نسلی برادری کو متنبہ کرنا تھا، جو زیادہ تر اہل تشیع ہیں، کہ وہ حکومتِ شام کے ساتھ شمولیت اختیار نہ کریں، جو اس دہشت گرد گروپ کے ساتھ لڑ رہی ہے۔

ادھر، افغان وزارتِ داخلہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ تین خودکش حملہ آوروں نے پُرامن مظاہریں پر حملہ کیا۔

کابل کے علاقے دہ مزنگ میں جس وقت یہ دھماکے ہوئے وہاں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد توانائی کے ایک منصوبے کی راہداری تبدیل کیے جانے کے خلاف مظاہرے میں شریک تھی۔

حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ آوروں کی کارروائی ہے اور زخمی ہونے والوں میں اکثر کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے "دہشت گردوں اور موقع پرستوں" کی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے مظاہرین کے تحفظ کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کر رکھے تھے۔ اُن کے بقول اس کے باوجود دہشت گرد مظاہرین میں داخل ہوگئے اور اس میں عام شہریوں کے علاوہ سکیورٹی فورسز کا بھی جانی نقصان ہوا۔

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد اپنے اس مطالبے کو لے کر مظاہرہ کر رہے تھے کہ ترکمانستان سے کابل تک بچھائی جانے والی 500 کلوواٹ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کو ان دو صوبوں سے گزارا جائے جہاں ان کی غالب اکثریت آباد ہے۔

اقوام متحدہ، پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور کابل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے بیانات میں اس حملے کی مذمت کی ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے اعانتی مشن کے سربراہ، تدامیچی یماموتو نے کہا ہے کہ ’’یہ حملہ خاص طور پر بہیمانہ نوعیت کا ہے چونکہ اس سے سولین آبادی کو ہدف بنایا جاتا ہے ایسے میں جب وہ اجتماع کی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے اپنے حقوق کا استعمال کر رہے تھے‘‘۔

اُنھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دانستہ طور پر ایک بڑے اجتماع، سولین آبادی کے گروپ کو ہدف بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے کہا ہے کہ ایک پُرامن احتجاجی مظاہرے پر بم حملہ مسلح گروہوں کی جانب سے انسانی زندگی کا لحاظ نہ کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تاہم، حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ اس راستے سے ٹرانسمیشن لائن گزارنے میں نہ صرف منصوبے کی لاگت میں لاکھوں ڈالر اضافہ ہوگا بلکہ اس کی تکمیل میں مزید کئی سال لگ جائیں گے جو کہ توانائی کی اشد ضرورت رکھنے والے اس ملک کے لیے مناسب نہیں۔

مظاہرے کے پیش نظر حکام نے جمعہ کو دیر گئے ہی دارالحکومت کے مرکزی حصوں اور شاہراہوں پر ٹرک اور کنٹینرز کھڑے کرکے انھیں بند کر دیا تھا، جب کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کو بھی تعینات کر دیا گیا تھا۔

تاہم، مظاہرین مختلف راستوں پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے جن کی اکثریت نے افغانستان کے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔

افغانستان میں حالیہ مہینوں میں جہاں طالبان نے اپنی مہلک کارروائیوں کو تیز کیا ہے وہیں ملک کے خاص طور پر مشرقی حصوں میں شدت پسند گروپ داعش سے وابستہ جنگجو بھی اپنی کارروائیاں کرتے آرہے ہیں۔

اس ٹرانسمیشن لائن ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے بچھائی جا رہی ہے جس کے ذریعے وسطی ایشیا سے بجلی افغانستان اور پاکستان کو فراہم کی جانی ہے اور اسے افغانستان کے دس صوبوں میں سے گزرنا ہے۔

ہزارہ برادری کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ اسے بامیان اور وردک صوبوں سے بھی گزارا جائے۔

2018ء تک متوقع طور پر مکمل ہونے والے اس منصوبے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا راستہ 2013ء میں افغان حکومت نے تبدیل کیا تھا اور ہزارہ برادری اس تبدیلی کو اپنی برادری کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف قرار دیتی ہے۔

ہزارہ، جن کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، افغانستان کی آبادی کا تقریباً دس فیصد ہے اور ان لوگوں کی معاشی حالت نسبتاً کمزور ہے۔

اس برادری کو خاص طور پر طالبان کے دور حکومت میں خاصی مشکلات کا سامنا رہا اور ان کے ہزاروں افراد شدت پسندوں کے ہاتھوں مارے بھی گئے۔

تاہم، سیاسی طور پر منظم اس برادری کے متعدد رہنما صدر اشرف غنی کی مخلوط حکومت کا بھی حصہ ہیں۔

اپنے اس مطالبے کو لے ہزارہ برادری کے ہزاروں افراد رواں سال مئی میں بھی کابل میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

XS
SM
MD
LG