رسائی کے لنکس

کابل میں بم دھماکہ، ٹی وی جرنلسٹ اور ڈرائیور ہلاک


فائل فوٹو

افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز کابل میں ایک بم دھماکے میں ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن چینل کا صحافی اور ڈرائیور ہلاک اور چھ دوسرے افراد زخمی ہو گئے۔

ہلاک ہونے والوں کا تعلق 'خورشید ٹی وی' سے تھا اور وہ ایک منی بس میں سفر کر رہے تھے، جس میں بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔ عہدے داروں نے بتایا کہ سہ پہر کے وقت جب سڑکوں پر رش تھا بارودی بم دھماکے سے پھٹ گیا۔

افغان حکومت کے میڈیا اور انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر فیروز بشیری نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں پر حملہ اظہار کی آزادی اور آزادی میڈیا پر حملہ ہے۔ بشیری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ حکومت اس حملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

کابل میں قائم افغان صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کمیٹی نے بھی ہلاکت خیز دھماکے کی مذمت اور اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان نے دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار ہے، جب کہ کسی اور گروپ نے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

پچھلے سال اگست میں ایک اسی طرح کے حملے میں 'خورشید ٹی وی' کے دو کارکنوں سمیت چار افراد زخمی ہو گئے تھے۔

طالبان اور دوسرے عسکری گروپ اس سے قبل بھی صحافیوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

صحافیوں کے لیے کام کرنے والے مقامی اور عالمی گروپس نے 2018 میں افغانستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا تھا۔ اس سال ملک میں مختلف واقعات میں 15 صحافی لقمہ اجل بن گئے تھے۔

سن 2016 میں طالبان کے ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری ہوئی اپنی کار ایک بس سے ٹکرا دی تھی جس پر کابل کے ایک پرائیویٹ چینل 'طلوع ٹی وی' کے ملازم سفر کر رہے تھے۔ اس طاقت ور دھماکے میں 7 صحافی ہلاک ہو گئے تھے۔

طلوع کا شمار افغانستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپس میں کیا جاتا ہے۔ اس وقت طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، الزام لگایا تھا کہ طلوع ٹی وی ان کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم چلا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG