رسائی کے لنکس

logo-print

کابل خودکش حملے میں دو غیر ملکی فوجیوں سمیت 10 افراد ہلاک


طالبان کا ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔

نیٹو کی زیر قیادت فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ کابل میں ایک کارروائی کے دوران ایک امریکی اور ایک رومانیہ کا فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس ہلاکت کے بعد افغانستان میں اس سال امریکی فوجیوں کے جانی نقصان کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے۔

ریزولیٹ سپورٹ مشن نے اس بارے میں فوری طور پر مزید معلومات فراہم کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ پالیسی کے تحت اس پر پابندی ہے۔

نیٹو کی جانب سے یہ اعلان شہر میں کار بم دھماکے کے کئی گھنٹوں کے بعد کیا گیا۔ طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں افغان اور غیر ملکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے اپنے ایک بیان میں 10 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکے میں 42 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام مقامی افراد تھے۔

یہ خودکش حملہ کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب ہوا۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق دھماکے کے مقام سے کچھ فاصلے پر امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے صدر دفتر کے علاوہ کئی اہم عمارتیں موجود ہیں اور یہ انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

ششدرک نامی اس علاقے میں افغانستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کے بھی دفاتر ہیں۔

دھماکہ جمعرات کو ایک کار میں سوار خودکش حملہ آور نے کیا جب اس نے ایک مرکزی سڑک پر اپنی کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے سے قریب کھڑی 12 گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں اور قریبی عمارتوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق دھماکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ششدرک کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔

دوسری جانب طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے غیر ملکیوں کی تین گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو ششدرک کے اس علاقے میں داخل ہو رہی تھیں جہاں افغان سکیورٹی اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کابل میں ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

پیر کو بھی کابل میں ایک دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ حملے ایسے موقع پر کیے جا رہے ہیں جب افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

گزشتہ روز یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس امکانی معاہدے پر خدشات کے باعث امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے دستخط سے انکار کر دیا ہے۔

طالبان کے ان حملوں کے بعد کابل اور واشنگٹن کے درمیان امن معاہدے پر خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

افغان حکومت نے بھی امریکہ طالبان مذاکرات کاروں کے درمیان طے پانے والے امن سمجھوتے کے مسودے پر تشویش اور اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG